چلو دیار نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر

chlo dyar e nabi ki janib

چلو دیار نبی کی جانب
درود لب پر سجا سجا کر

بہار لوٹیں گے ہم کرم کی
دلوں کو دامن بنا بنا کر

نہ اُ ن کے جیسا سخی ہےکوئی
نہ اُ ن کے جیسا غنی ہے کوئی

وہ بے نواؤں کو ہر جگہ سے
نوازتے ہیں بُلا بُلا کر

میں وہ نکما ہوں جسکی جھولی میں
کوئی حُسنِ عمل نہیں ہے

مگر وہ احسان کر رہے ہیں
خطائیں میری چھپا چھپا کر

ہے ان کو اُمت سے پیار کتنا
کرم ہے رحمت شعار کتنا

ہمارے جرموں کو دھو رہے ہیں
وہ اپنے آنسو بہا بہا کر

یہی آساسِ عمل ہے میری
اسی سے بگڑی بنی ہے میری

سمیٹتا ہوں کرم خدا کا
نبی کی نعتیں سنا سنا کر

وہ راہیں اب تک سجی ہوئی ہیں
دلوں کا کعبہ بنی ہوئی ہیں

جہاں جہاں سے حضورﷺگذرے ہیں
نقش اپنا جما جما کر

اگر مقدر نے یاور ی کی
اگر مدینے گیا میں خالؔد

قدم قدم خاک اس گلی کی
میں چوم لوں گا اُٹھا اُٹھا کر

Previous چمن طیبۂ میں سنبل جو سنوارے گیسو Next چاند تارے ہی کیا دیکھتے رہ گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے