برس رہا ہے کرم کا ساون حضور آئے حضور آئے

برس رہا ہے کرم کا ساون، حضور آئے، حضور آئے
ہیں اُجلے اُجلے گلوں کے دامن، حضور آئے، حضور آئے

ہیں روح پرور سبھی نظارے جہاں میں آئے نبی ہمارے
بھرا ہے خوشبو سے آنگن آنگن حضور آئے، حضور آئے

جہاں میں نکلے ہیں یوں سویرے کہ منہ چھپانے لگے اندھیرے
نظر نظر میں ہیں دیپ روشن حضور آئے، حضور آئے

خدائے غفار مہرباں ہے خزاں کے قبضے میں خود خزاں ہے
بہار پر ہے حقیقی جوبن حضور آئے، حضور آئے

تھا ذکر جس کا صدی صدی میں وہ نور پھیلا گلی گلی
چمک اُٹھے ہیں دلوں کے در پن حضور آئے، حضور آئے

یقین کہتا ہے یوں گماں سے بڑھی زمیں آج آسماں سے
ہیں رشک جنت یہاں کے گلشن حضور آئے، حضور آئے

ہوائیں ہیں نغمہ بار نازش چمن بھی ہیں پر بہار نازش
یہ کہہ رہی ہے دلوں کی دھڑکن حضور آئے، حضور آئے

الحاج محمد حنیف نازش قادری

Previous کملی والے میں تیرے قربان دونوں جہاں کے راج دلارے نبیوں کے سلطان Next تم اپنے دامن بچھا کے مانگو حضور دینگے ضرور دینگے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے