اشکوں کی چادر چہرے پر آنکھوں میں گنبد عالی ہے

اشکوں کی چادر چہرے پر آنکھوں میں گنبد عالی ہے
خوابوں کا نگر آباد رہے، خوابوں میں سنہری جالی ہے

رحمت کے رنگ انوکھے ہیں بخشش کی شان نرالی ہے
اُس در کی عطائیں کیا کہنا جس در پر وقت سوالی ہے

محشر کے جلتے لمحوں کا خوف اور مسلماں ہو کے ہمیں
اشکوں سے نبی نے امت کی ہر فردِ عمل دھو ڈالی ہے

صحرا کوئی راہ میں آ نہ سکا کوئی آندھی چھو کر جا سکی
اس نام کی برکت سے زندہ آواز ازان بلالی ہے

اُس ابر کرم کا طالب ہوں جو گلشن جاں سیراب کرے
میں ایک شجر ہوں ایسا شہا جو برگ و ثمر سے خالی ہے

ہے جسم و جاں کا ہر گوشہ روشن روشن مہکا مہکا
لگتا ہے کہ قرطاس دل پر کوئی نعت اترنے والی ہے

بے پوچھے فرشتے لوٹیں گے یہ کہہ کر لحد سے میری صبیح
یہ جسم مدینے والا ہے یہ روح مدینے والی ہے

محمد صبیح الدین رحمانی

Previous جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں Next رہے جاتے ہیں یہ ارماں ہائے میرے سینے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے