آنکھوں میں بس گیا ہے مدینہ حضور کا

آنکھوں میں بس گیا ہے مدینہ حضور کا
بے کس کا آسرا ہے مدینہ حضور کا

پھر جا رہے ہیں اہل محبت کے قافلے
پھر یاد آ رہا ہے مدینہ حضور کا

تسکین جاں ہے راحت دل وجہ انبساط
ہر درد کی دوا ہے مدینہ حضور کا

نبیوں میں جیسے افضل و اعلی ہیں مصطفی
شہروں میں بادشاہ ہے مدینہ حضور کا

ہے رنگ نور جس نے دیا دو جہان کو
وہ نور کا دیا ہے مدینہ حضور کا

جب سے قدم پڑے ہیں رسالت مآب کے
جنت بنا ہوا ہے مدینہ حضور کا

قدسی بھی چومتے ہیں ادب سے یہاں کی خاک
قسمت پہ جھومتا ہے مدینہ حضور کا

ہر ذرہ ذرہ اپنی جگہ ماہتاب ہے
کیا جگمگا رہا ہے مدینہ حضور کا

ہو ناز کیوں نہ اس کو نیازی نصیب پر
جس کو بھی مل گیا ہے مدینہ حضور کا

عبدالستار نیازی

Previous کوئے نبی سے آنہ سکے ہم راحت ہی کچھ ایسی تھی Next اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے