ایسا کوئی محبو ب نہ ہو گا ، نہ کہیں ہے

aisa koye mehboob

ایسا کوئی محبو ب نہ ہو گا ، نہ کہیں ہے
بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے

ملتا نہیں کیا کیا دو جہاں کو تِرے در سے
اِک لفظ “نہیں” ہے کہ تِرے لب پہ نہیں ہے

تو چاہے تو ہر شب ہو مثالِ شبِ اسریٰ
تیرے لیے دو چار قدم عرشِ بریں ہے

ہر اِک کو میسر کہاں اس در کی غلامی
اس در کا تو دربان بھی جبر یل امیں ہے

اۓ شاہِ زَمَن! اب تو زیارت کا شرف دے
بے چین ہیں آنکھیں مِری بیتاب جبیں ہے

دل گِریہ کناں اور نظر سوئے مدینہ
اعؔظم ترا اندازِ طلب کتنا حسیں ہے

Previous ایمان ہے قال مصطفائی ﷺ Next ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے