📚 کہانیاں و نظمیں 🖼️ بچوں کی مصوری گیلری 🖌️ ڈیجیٹل رنگ بھریے ✍️ اردو خوشخطی و خطاطی
ہوم پیج ← بچوں کا گوشہ ← اسلامی کہانیاں و قصص الانبیاء ← غارِ ثور، مکڑی کا جالا اور کبوتر کا گھونسلا
غارِ ثور، مکڑی کا جالا اور کبوتر کا گھونسلا 🎒 پرائمری بچے (7 تا 10 سال)
📚 اسلامی کہانیاں و قصص الانبیاء 🌟 موضوع: نصرتِ خداوندی

غارِ ثور، مکڑی کا جالا اور کبوتر کا گھونسلا

⏱️ پڑھنے کا وقت: 4 منٹ ✍️ ماخذ: سیرت النبی ﷺ برائے اطفال
فونٹ سائز:

پیارے بچو! جب مکہ مکرمہ کے کافروں اور سرداروں نے دیکھا کہ اسلام کی روشنی تیزی سے پھیل رہی ہے، تو انہوں نے مل کر نعوذ باللہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو شہید کرنے کی ناپاک سازش تیار کی۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے اپنے رسول ﷺ کو کافروں کے اس منصوبے سے آگاہ فرما دیا اور مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔

آپ ﷺ اپنے وفادار اور سب سے سچے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کی تاریکی میں مکہ سے روانہ ہوئے۔ کافروں کو دھوکہ دینے کے لیے آپ ﷺ سیدھا مدینہ جانے کے بجائے مخالف سمت میں مکہ کے قریب ایک اونچے اور پتھریلے پہاڑ پر واقع "غارِ ثور” میں تشریف لے گئے اور وہاں پناہ لی۔

اگلی صبح جب کافروں نے دیکھا کہ آپ ﷺ بستر پر نہیں ہیں، تو وہ غصے سے پاگل ہو گئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جو شخص محمد ﷺ یا ابوبکرؓ کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا، اسے ایک سو سرخ اونٹ بطور انعام دیے جائیں گے!

لالچ میں آ کر مکہ کے بڑے بڑے کھوجی اور تلوار بردار کافر پاؤں کے نشانات تلاش کرتے کرتے بالکل غارِ ثور کے دہانے تک پہنچ گئے۔

کافر اتنے قریب تھے کہ ان کے قدموں کی آہٹ اور باتیں اندر صاف سنائی دے رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ پریشان ہو گئے اور دھیمی آواز میں عرض کیا: "یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے ذرا سا بھی جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں دیکھ لیں گے!”

ہمارے پیارے نبی ﷺ نے چہرے پر مسکراہٹ اور کامل سکون کے ساتھ تاریخی الفاظ فرمائے:
"لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا” — یعنی "اے ابوبکر! غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے!” اور فرمایا: "اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ ہو؟”

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی حفاظت کے لیے لشکروں کی بجائے اپنی دو کمزور ترین مخلوقات کو بھیجا:
۱) اللہ کے حکم سے ایک مکڑی نے غار کے منہ پر چند لمحوں میں ایک گھنا اور جال بن دیا۔
۲) اور جنگلی کبوتروں کے ایک جوڑے نے غار کے دہانے پر شاخوں سے گھونسلا بنا کر اس میں انڈے دے دیے۔

جب کافر غار کے منہ پر پہنچے اور اندر جھانکنے لگے تو ان کے سردار امیہ بن خلف نے مکڑی کا پرانا جالا اور کبوتر کے انڈے دیکھ کر کہا: "تم لوگ پاگل ہو گئے ہو! اگر کوئی انسان اس غار کے اندر داخل ہوتا تو کیا یہ مکڑی کا نازک جالا اور کبوتر کا گھونسلا سلامت رہتا؟ یہ جالا تو محمد (ﷺ) کی پیدائش سے پہلے کا بنا ہوا معلوم ہوتا ہے!”

کافروں نے اپنا رخ موڑ لیا اور وہیں سے الٹے پاؤں ناکام و نامراد واپس لوٹ گئے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے مکڑی کے ایک نازک دھاگے کے ذریعے اپنے محبوب پیغمبر ﷺ اور اسلام کی حفاظت فرما دی۔

🌟 کہانی کا سبق (Moral of the Story)

جس کا حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو، دنیا کی بڑی سے بڑی فوج اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ کمزور ترین مخلوق سے بھی معجزاتی کام لے سکتا ہے۔

🎈 مزید پیاری کہانیاں اور نظمیں

ننھے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور آبِ زم زم کا معجزہ

ننھے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور آبِ زم زم کا معجزہ

مکہ مکرمہ کی بے آب و گیاہ وادی میں ننھے اسماعیلؑ کی پیاس، حضرت...

⏱️ 4 منٹ پڑھیں ←
حضرت سلیمان علیہ السلام اور ہُدہُد کی سچی خبر

حضرت سلیمان علیہ السلام اور ہُدہُد کی سچی خبر

حضرت سلیمانؑ کی سلطنت میں ننھے ہدہد کی حاضری، ملکہ سبا کے ملک کی...

⏱️ 5 منٹ پڑھیں ←
اصحابِ کہف اور ان کے وفادار کتے کا ایمان افروز واقعہ

اصحابِ کہف اور ان کے وفادار کتے کا ایمان افروز واقعہ

ظالم بادشاہ سے اپنا ایمان بچانے کے لیے پہاڑ کے غار میں پناہ لینے...

⏱️ 5 منٹ پڑھیں ←