۱. برصغیر کا المیہ: ساس بمقابلہ بہو اور پستا ہوا شوہر
ہمارے خاندانی نظام میں سب سے زیادہ کشیدگی ساس اور بہو کے تعلق میں دیکھی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں فریقین اپنے اپنے دائرہ کار اور شرعی حدود سے ناواقف ہوتے ہیں، اور شوہر دونوں کے درمیان عدل اور توازن قائم کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
۲. شرعی حدود کی واضح تفہیم
- والدین کے حقوق: والدین کی اطاعت اور ان کی خدمت ہر بیٹے پر فرضِ عین ہے۔ جو شخص بیوی کی خاطر اپنے بوڑھے والدین کو دھتکارتا ہے یا اولڈ ہومز کے حوالے کرتا ہے وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔
- بیوی کے حقوق: بیوی پر شریعت نے یہ قانونی فرض عائد نہیں کیا کہ وہ ساس سسر کی خدمت کرے، بلکہ یہ اس کا اخلاقی احسان اور نیکی ہے۔ اگر وہ خوش دلی سے خدمت کرتی ہے تو یہ اس کی سعادت مندی ہے۔ شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔
۳. شوہر کا عادلانہ کردار
شوہر کو چاہیے کہ وہ "سنی سنائی باتوں” پر بغیر تحقیق کے فیصلہ نہ کرے۔ ماں کے سامنے بیوی کی عزت کرے اور تنہائی میں اگر بیوی کی کوئی کوتاہی ہو تو محبت سے سمجھائے۔ اسی طرح بیوی کے سامنے والدین کا احترام برقرار رکھے اور کبھی اپنی ماں کی توہین برداشت نہ کرے۔