۱. نباتات میں نر اور مادہ کا تاریخی انکشاف
قدیم فلسفے اور طب میں یہ تصور راسخ تھا کہ نر اور مادہ کا تصور صرف جاندار حیوانات (انسانوں اور جانوروں) تک محدود ہے، اور درخت، پودے اور گھاس محض مٹی اور پانی کی برکت سے اگتے ہیں جن میں کسی جوڑے یا جنسیت کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
سائنس کی تاریخ میں پہلی بار ۱۶۹۴ء میں جرمن ماہرِ نباتات روڈولف جیکب کیمراریوس (Rudolf Jakob Camerarius) نے اپنے خط "De Sexu Plantarum Epistola” میں باقاعدہ تجربات سے ثابت کیا کہ پودوں میں بھی نر اعضاء (Stamens) اور مادہ اعضاء (Pistils) ہوتے ہیں، اور جب تک نر پولن مادہ بیضہ دانی تک نہیں پہنچتا، پھل اور بیج نہیں بن سکتے۔
۲. قرآنی آیت کا صریح اعلان: «أَزْوَاجًا مِّن نَّبَاتٍ شَتَّىٰ»
قرآنِ پاک نے ساتویں صدی عیسوی میں واضح ترین الفاظ میں ارشاد فرمایا:
«وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّن نَّبَاتٍ شَتَّىٰ»
"اور اسی نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے مختلف قسم کے نباتات کے جوڑے پیدا کیے۔” (سورۃ طٰہٰ: ۵۳)
عربی لغت میں لفظ «زَوْج» (جمع: أَزْوَاج) کا حقیقی معنی دو ایسی چیزوں کا جوڑا ہے جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، جیسے نر اور مادہ۔
۳. ہواؤں کے ذریعے بارآوری (Pollination) کا معجزہ
قرآن نے صرف جوڑوں کے ہونے کی خبر نہیں دی، بلکہ ہواؤں کے ذریعے نباتات کی بارآوری (Wind Pollination) کے عمل کو بھی سورۃ الحجر میں یوں بیان فرمایا:
«وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ»
"اور ہم نے بارآور ہوائیں چلائیں۔” (سورۃ الحجر: ۲۲)
لفظ «لَوَاقِح» لقاح سے نکلا ہے جس کا معنی بارآور کرنا (Fecundate / Pollinate) ہے۔ جدید نباتیات کا مسلمہ ہے کہ ہوائیں نر زردانے کو اڑا کر مادہ پھولوں تک پہنچاتی ہیں جس سے پودوں میں بارآوری ہوتی ہے۔
۴. کائنات کا ہمہ گیر جوڑا نظام
قرآن نے اس اصول کو صرف پودوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ کائنات کے ہر ذرے میں جوڑے کے قانون کا اعلان فرمایا:
«وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ»
"اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔” (سورۃ الذاریات: ۴۹)
آج جدید فزکس تصدیق کرتی ہے کہ ایٹم کے اندر بھی مثبت پروٹان اور منفی الیکٹران کا جوڑا ہے، مادے (Matter) کے ساتھ متضاد مادہ (Antimatter) ہے، اور ڈی این اے میں بیس پیئرز (Base Pairs) کا لازمی جوڑا ہے۔