ارض و بحریات 🔬 علم بحریات 📅 دریافت: 1900ء کے بعد (جدید آبدوزیں) ⏱️ 6 منٹ مطالعہ

سمندر کی عمیق تاریکیاں اور اندرونی لہریں — سورۃ النور کی آیت ۴۰ اور بحری سائنس

حوالۂ کلامِ الٰہی: سورۃ النور: ۴۰ • توثیق و تحقیق: پروفیسر درگا راؤ (Prof. Durga Rao) اور اوشنوگرافک انسٹی ٹیوٹس

۱. گہرے سمندر کا وہ جہاں جس سے انسان بے خبر تھا

رسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک ظاہری زندگی میں کبھی بحری سفر نہیں فرمایا تھا اور جزیرۃ العرب کے لوگ صرف اتھلے ساحلوں پر ماہی گیری اور موتی نکالنے کے لیے چند میٹر تک غوطہ لگاتے تھے۔ انسانی جسم بغیر خصوصی پریشر سوٹ یا آبدوز کے ۴۰ سے ۵۰ میٹر سے زیادہ نیچے جائے تو پھیپھڑے پھٹ جاتے ہیں۔ چنانچہ گہرے سمندر کی عمیق ترین گہرائیوں میں کیا مظاہر وقوع پذیر ہوتے ہیں، یہ انیسویں صدی کے اواخر تک انسانیت کے لیے مکمل اسرار تھا۔

۲. سمندر کی تہہ در تہہ تاریکیوں کی سائنسی حقیقت

سورج کی سفید روشنی سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ جب سورج کی کرنیں سمندر کی سطح پر پڑتی ہیں تو پانی کے مالیکیول روشنی کو جذب کرنا شروع کرتے ہیں:

  • ابتدائی ۱۰ سے ۱۵ میٹر میں سرخ رنگ مکمل جذب ہو کر غائب ہو جاتا ہے۔
  • ۳۰ سے ۵۰ میٹر تک نارنجی اور زرد رنگ جذب ہو جاتے ہیں۔
  • ۱۰۰ میٹر کے بعد سبز اور بنفشی رنگ ختم ہو جاتے ہیں۔
  • ۲۰۰ میٹر سے نیچے نیلا رنگ بھی معدوم ہو جاتا ہے اور مکمل اندھیرا شروع ہوتا ہے جسے Aphotic Zone کہا جاتا ہے۔
  • ۱۰۰۰ میٹر کے بعد ایسی گھپ تاریکی ہوتی ہے کہ وہاں کوئی روشنی موجود نہیں ہوتی، اگر کوئی انسان اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کے سامنے لائے تو اسے دیکھنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔

۳. اندرونی لہروں کی دریافت (Internal Waves)

جدید بحری تحقیق نے بیسویں صدی میں ایک انتہائی شگفتہ حقیقت دریافت کی جسے "اندرونی لہریں” (Internal Waves) کہا جاتا ہے۔ گہرے سمندر کا نچلا پانی کثیف اور ٹھنڈا ہوتا ہے، جبکہ اوپر کا پانی گرم اور کم کثیف ہوتا ہے۔ ان دونوں تہوں کے مابین ایک اندرونی لہر پیدا ہوتی ہے جو زیرِ آب ویسی ہی حرکت کرتی ہے جیسے سطحِ سمندر پر لہریں چلتی ہیں۔ یعنی سمندر کے نیچے ایک لہر ہوتی ہے، اس کے اوپر سطح کی دوسری لہر ہوتی ہے اور اس کے اوپر فضا میں بادل ہوتے ہیں۔

۴. قرآنی آیت کی سحر انگیز سائنسی تصویر کشی

سورۃ النور کی آیت ۴۰ پر غور فرمائیے، ایک ایک لفظ سائنس کے ماتھے کا جھومر ہے:

«أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا»
"یا پھر (ان کے اعمال کی مثال) گہرے سمندر کی تاریکیوں جیسی ہے، جسے ڈھانپ رکھا ہو ایک لہر نے، جس کے اوپر ایک اور لہر ہے، اور اس کے اوپر بادل ہیں، اندھیروں پر اندھیرے چھائے ہوئے ہیں، اگر انسان اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔” (سورۃ النور: ۴۰)

آیت میں «بَحْرٍ لُّجِّيٍّ» گہرے اتھاہ سمندر کو کہا گیا ہے۔ پھر دوہری لہروں کا ذکر «مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ» یعنی لہر کے اوپر لہر، اور آخر میں مطلق تاریکی «إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا» کہ انسان کو اپنا ہاتھ تک دکھائی نہ دے — یہ سمندر کی روشنی جذب کرنے اور اندرونی لہروں کا ہو بہو سائنسی بیان ہے۔

🌌 تمام سائنسی معجزات و قرآنی نشانیاں دیکھیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
معجزاتِ الٰہی و اعجازِ قرآن • اردو کووریج دائرۃ المعارف

سمندر کی عمیق تاریکیاں اور اندرونی لہریں — سورۃ النور کی آیت ۴۰ اور بحری سائنس

«أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا»
"یا پھر (ان کے اعمال کی مثال) گہرے سمندر کی تاریکیوں جیسی ہے، جسے اوپر تلے لہروں نے ڈھانپ رکھا ہو اور ان کے اوپر بادل ہوں، تہہ در تہہ اندھیرے چھائے ہوئے ہیں، اگر انسان اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔"
— سورۃ النور: ۴۰
خلاصۂ اعجاز و جدید سائنس:
انسان بغیر آبدوز کے ۲۰۰ میٹر سے نیچے جا ہی نہیں سکتا؛ قرآن نے چودہ سو سال قبل سمندر کی پاتال کے مطلق اندھیروں اور تہہ در تہہ "اندرونی لہروں" کا ہو بہو نقشہ بیان فرمایا۔
🔬 شعبہ: علم بحریات 📅 سائنسی دریافت: 1900ء کے بعد (جدید آبدوزیں) urducoverage.com/miracles