ایسے گئے کہ سب کو رلا کر چلے گئے

آنکھیں بھیگو کے دل کو ہلا کر چلے گئے
ایسے گئے کہ سب کو رلا کر چلے گئے
افتاق کی شان علم و ہنر کا وقار تھے
سادہ مزاج جندہ دلی کی بہار تھے
محفل ہر ایک سونی بنا کر چلے گئے
ایسے گئے کہ سب کو رلا کر چلے گئے

Previous عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ Next میرا بادشاہ حُسین ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے