طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو

طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
خاکِ طیبہ کے ذروں کی شان و شوکت مت پوچھو

کملی والے کی امت کا شرف جو ہم کو بخشا ہے
کتنی ہوئی ہے ہم پہ یارو رب کی رحمت مت پوچھو

کملی والے کی بستی میں آنکھوں نے جو دیکھا ہے
کتنی ملی ہے اس سے لوگو دل کو راحت مت پوچھو

رحمتِ عالم نورِ مجسم کی اس دنیا میں آمد

کتنی ارفع اور اعلیٰ ہے رب کی نعمت مت پوچھو

میرے نبی کا ایک اشارہ چاند کے ٹکڑے کرتا ہے
کملی والے کو حاصل ہے کتنی قدرت مت پوچھو

انکی اداؤں ہی کو رب نے اپنی عبادت گردانا

کملی والے سے ہے کیسی رب کی چاھت مت پوچھو

Previous طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو Next طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے