تہ دام بھي غزل آشنا رہے طائران چمن تو کيا

شاعر: علامہ اقبال
تہ دام بھي غزل آشنا رہے طائران چمن تو کيا جو فغاں دلوں ميں تڑپ رہي تھي، نوائے زير لبي رہي ترا جلوہ کچھ بھي تسلي دل ناصبور نہ کر سکا وہ گريہ سحري رہا ، وہي آہ نيم شبي رہي نہ خدا رہا نہ صنم رہے ، نہ رقيب دير حرم رہے نہ رہي کہيں اسد اللہي، نہ کہيں ابولہبي رہي مرا ساز اگرچہ ستم رسيدئہ زخمہ ہائے عجم رہا وہ شہيد ذوق وفا ہوں ميں کہ نوا مري عربي رہي
پورا کلام پڑھیں

گرم فغاں ہے جرس اٹھ کہ گیا قافلہ

شاعر: علامہ اقبال
گرم فغاں ہے جرس اٹھ کہ گیا قافلہ وائے وہ رہ رو کہ ہے منتظر راحلہ تیری طبیعت ہے اور تیرا زمانہ ہے اور تیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ دل ہو غلام خرد یا کہ امام خرد سالک رہ ہوشیار سخت ہے یہ مرحلہ اس کی خودی ہے ابھی شام و سحر میں اسیر گردش دوراں کا ہے جس کی زباں پر گلہ تیرے نفس سے ہوئی آتش گل تیز تر مرغ چمن ہے یہی تیری نوا کا صلہ
پورا کلام پڑھیں