شاعر: مرزا غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اُس کی گردن پر
وہ خون جو چشمِ تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
نکلنا خُلد سے آدم کا سُنتے آئے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کُوچے سے ہم نکلے
پورا کلام پڑھیں
شاعر: مرزا غالب
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منھ میں زبان رکھتا ہوں
کاش! پوچھو کہ مدّعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
پورا کلام پڑھیں
شاعر: میر تقی میر
اُلتی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا
عشق اس کا تھا اور میسّر مجھ کو تھیں نالائقیاں
عاشقِ صادق ہوتا تو مجھ سے بن آتا، کیا سلام کیا
پورا کلام پڑھیں
شاعر: فیض احمد فیض
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیرے بے درد بھنوؤں کے حوالے نہ سہی
جن کو تکلیف نے مارا ہے کہیں اُن کو بھی دیکھ
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
پورا کلام پڑھیں
شاعر: احمد فراز
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
پہلے سے مرزوں ہوں تو رکتا نہیں آنسو
تھوڑے سے تو ہیں اُٹھا کے بہانے کے لیے آ
اک عمر سے ہوں لزّتِ گریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ
پورا کلام پڑھیں
شاعر: علامہ اقبال
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیںیہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پرچمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غممقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیراترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جاکہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میںیہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
پورا کلام پڑھیں
شاعر: پروین شاکر
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سےسو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کیسو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغفسو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیںیہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہےستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیںسنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیںسنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کیسنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہےسو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیںسو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کیجو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میںمزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میںپلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہےکہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کاسو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشتمکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیںچلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھےکبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہیاگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیںفرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
پورا کلام پڑھیں
شاعر: نامعلوم
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کیاس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نےبات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہےتجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھاروح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہےجاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
پورا کلام پڑھیں
شاعر: نامعلوم
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھرہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیںاس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی
اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
پورا کلام پڑھیں
شاعر: علامہ اقبال
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام!
پير حرم نے کہا سن کے مري روئداد
پختہ ہے تيري فغاں ، اب نہ اسے دل ميں تھام
تھا ارني گو کليم ، ميں ارني گو نہيں
اس کو تقاضا روا ، مجھ پہ تقاضا حرام
گرچہ ہے افشائے راز ، اہل نظر کي فغاں
ہو نہيں سکتا کبھي شيوہ رندانہ عام
حلقہ صوفي ميں ذکر ، بے نم و بے سوز و ساز
ميں بھي رہا تشنہ کام ، تو بھي رہا تشنہ کام
عشق تري انتہا ، عشق مري انتہا
تو بھي ابھي ناتمام ، ميں بھي ابھي ناتمام
آہ کہ کھويا گيا تجھ سے فقيري کا راز
ورنہ ہے مال فقير سلطنت روم و شام
پورا کلام پڑھیں