پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا

phir karam hogeya main madiny chla

پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
میں مدینے چلا میں مدینے چلا

ساقیا کے پلا میں مدینے چلا
مست و بے خود بنا میں مدینے چلا

کیف و مستی عطاء مجھ کو کر دیے خدا
مانگتا یہ دعا میں مدینے چلا

اے شجر اے حجر تم بھی شمس و قمر
دیکھو دیکھو ذرا میں مدینے چلا

کیا بتاؤں ملی دل کو کیسی خوشی
جب یہ مژدہ سنا میں مدینے چلا

مسکرانے لگی دل کی اک اک کلی
غنچہ دل کھلا میں مدینے چلا

پھر اجازت ملی جب خبر یہ سنی
دل مرا جھوم اٹھا میں مدینے چلا

جو ہیں محبوب رب اپنی اُن سے ہی سب
بخشوانے خطاء میں مدینے چلا

وہ احد کی زمیں جس کے اندر مکیں
میرے حمزه پیا میں مدینے چلا

دیکھیں تارے مجھے نظارے مجھے
تم بھی دیکھو ذرا میں مدینے چلا

روح مضطر ٹھہر تو نکلنا اُدھر
اتنی جلدی بھی کیا میں مدینے چلا

ہاتھ اٹھتے رہے مجھ کو دیتے رہے
وہ طلب سے سوا میں مدینے چلا

ان کے مینار پر جب پڑے گی نظر
کیا سرور آئے گا میں مدینے چلا

کیا کرے گا ادھر باندھ رخت سفر
چل عبید رضا میں مدینے چلا

محمد عبید رضا قادری

Previous پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے Next پھر کے گلی گلی تباہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے