نعت لکھتا ہوں رات کو جب بھی

نعت لکھتا ہوں رات کو جب بھی
بتیاں تک بجھائے رکھتا ہوں

جانے کس وقت آپ آ جائیں
اپنی پلکیں بچھائے رکھتا ہوں

جب بھی جاتا ہوں ان کے قدموں میں
اپنا چہرہ چھپائے رکھتا ہوں

کام بگڑے ہوئے ہوں جتنے بھی
حاضری تک اٹھائے رکھتا ہوں

میں تو مسرور ان کی یادوں کے
پھول سارے کھلائے رکھتا ہوں

Previous نعت سرکار کی پڑھتاہوں میں Next نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے