نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد

نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
خدا بھی ہے جب نعت خوانِ محؐمد

جہاں نوری جبرائیل کے پر ہیں جلتے
وہاں سے شروع ہے اُڑانِ محؐمد

ہے کعبے کا قبلہ بنا سبز گنبد
خدا سے بڑا آستانِ محؐمد

کبھی پڑھ کے دیکھو نگاہِ قلب سے
ہے قرآن سارا بیانِ محؐمد

خدا کو بھی مطلوب انکی رضا جب
کرے کیا بیاں کوئی شانِ محؐمد

اُنھیں کیا خطر حادثاتِ زمن سے
خدا خود ہے جب پاسبانِ محؐمد

بسائیں گے جنت کو بھی روزِ محشر
عجب شان سے خادمانِ محؐمد

Previous نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا Next نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے