محؐمد محؐمد پکارے چلا جا

محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
سبھی کام بگڑے سنوارے چلا جا

مجھے بھا گئے ہیں مدینے کے جلوے
ارے جنتوں کے نظارے چلا جا

لیا نام ان کا جو موجِ بلا میں
بھنور نے کہا جا کنارے چلا جا

مدینے میں بے خود ہوا جا رہا ہوں
اے صبرو ضبط کے سہارے چلا جا

پہنچ ہی گیا ہوں میں آقا کے در پر
میری زندگی کے خسارے چلا جا

جرم چاہے جتنے ہوں بخشش کی خاطر
حبیبِ خدا کے دوارے چلا جا

محبؔوب باقی ہے جو زندگانی
درِ مصطفےٰ پہ گزارے چلا جا

Previous مجھے در پے پھر بلانامدنی مدینے والے Next مدینہ سامنے ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے