میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم

میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
کردے میرے آقا اب نظر کرم

میں تو بے سہارا ہوں دامن بھی ہے خالی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی

…میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم

غم کے اندھیروں نے گھیرا ہوا ہے
آقا دشوار اب جینا میرا ہوا ہے
بگڑی بنادو میری طیبہ کے والی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی

…میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم

جس کو بلایا گیا وہ ہی عرش بریں ہے
آپ کے سوا ایسا کوئی نہیں ہے
جس کی نہ بات کوئی رب نے بھی ٹالی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی

میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
کردے میرے آقا اب نظر کرم۔

Previous میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے Next میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے