جب ہم صحرائے اعظم (Sahara Desert) کا نام سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں دور دور تک پھیلے ریت کے جلتے ہوئے ٹیلے، چلچلاتی دھوپ اور پیاس سے تڑپتی چٹانوں کا منظر ابھرتا ہے۔ 92 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ دنیا کا سب سے بڑا گرم صحرا انسان کے لیے سب سے زیادہ غیر مہربان خطہ ہے۔ لیکن جدید جیولوجی اور آثارِ قدیمہ نے ایک ایسا ہوش ربا انکشاف کیا ہے جس پر یقین کرنا مشکل ہے: چند ہزار سال پہلے یہ بنجر خطہ نیلگوں جھیلوں، مچھلیوں اور سرسبز جنگلوں کی ایک پررونق جنت تھا!
گرین سہارا اور جھیل میگا چاڈ کا سنہری دور
آج سے تقریباً 11,000 سے 5,000 سال پہلے کا دور تاریخ میں «افریقی مرطوب دور» (African Humid Period) کہلاتا ہے۔ اس وقت صحارا میں باقاعدہ مانسون کی شدید بارشیں ہوتی تھیں۔ صحرا کے وسط میں اتنی بڑی جھیلیں موجود تھیں جن کا تصور بھی محال ہے۔ جھیل «میگا چاڈ» کا رقبہ بحیرہ اسود سے بھی بڑا تھا جس میں دیو ہیکل مگرمچھ، ہپوز اور مچھلیاں تیرتی تھیں۔ انسان ان ندیوں کے کنارے بستیاں بسا کر مچھلیوں کا شکار کرتے تھے اور گائے بکریاں چراتے تھے۔
غاروں کی تصاویر: غائب شدہ دنیا کا ثبوت
جنوبی لیبیا اور مصر کے لق و دق صحرا میں «غارِ تیراکاں» (Cave of Swimmers) واقع ہے۔ ان چٹانوں پر 8000 سال پرانی نقش و نگاری موجود ہے۔ ان تصاویر میں انسانوں کو مزے سے پانی میں غوطے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ آس پاس زرافے، گینڈے اور ہاتھی چر رہے ہیں۔ اگر کوئی مسافر آج اس غار کے باہر کھڑا ہو کر دیکھے تو چاروں طرف سینکڑوں میل تک ریت کے سوا پانی کا ایک قطرہ تک نظر نہیں آتا۔
«زمین کے اپنے محور پر جھکاؤ کے 23,000 سالہ چکر (Precession) کی وجہ سے مانسون کی ہوائیں رخ بدلتی ہیں، جس کی وجہ سے سہارا باری باری سرسبز اور پھر صحرا بنتا رہتا ہے۔»
دوبارہ سبز ہونے کی پیشگوئی
سہارا ہمیشہ کے لیے بنجر نہیں رہے گا۔ زمین اپنے مدار پر ایک لٹو کی طرح ہلکورے لیتی ہے جسے علمِ فلکیات میں «پری سیشن» (Axial Precession) کہا جاتا ہے۔ ہر 20 سے 23 ہزار سال بعد زمین کا جھکاؤ ایسا ہوتا ہے کہ شمالی نصف کرہ سورج کے قریب ہو جاتا ہے اور مانسون کے بادل واپس صحارا کا رخ کر لیتے ہیں۔ سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ آج سے تقریباً 15,000 سال بعد صحرائے اعظم ایک بار پھر سرسبز چراگاہوں، ندیوں اور جنگلات کے روپ میں زندہ ہو جائے گا۔