بلیک ہولز کے بعد کائنات کی سب سے پرجوش، انتہا پسند اور خوفناک ترین طبعی جگہ "نیوٹران ستارہ" (Neutron Star) ہے۔ یہ وہ فلکیاتی لاشیں ہیں جو سورج سے 10 سے 25 گنا بڑے ستاروں کے خوفناک سپرنووا دھماکے کے بعد جنم لیتی ہیں۔ کششِ ثقل اس ستارے کے ایٹموں کو اس قدر بے رحمی سے بھینچتی ہے کہ الیکٹران اور پروٹون آپس میں مدغم ہو کر ٹھوس نیوٹران کا ایک گولا بن جاتے ہیں۔
صرف ایک چائے کا چمچ اور 1 ارب ٹن وزن!
نیوٹران ستارے کی کثافت (Density) انسانی عقل کی سرحدوں کو پار کر جاتی ہے۔ تصور کیجیے کہ ہمارے پورے سورج (جس میں 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں) کو دبا کر صرف ایک چھوٹے سے شہر (20 کلومیٹر قطر) کے حجم میں سکیڑ دیا جائے! اس ستارے کی سطح پر مٹیریل اتنا کثیف ہوتا ہے کہ اگر آپ وہاں سے چینی کے چمچ کے برابر مادہ اٹھا کر زمین پر لائیں تو اس کا وزن تقریباً 1 ارب ٹن ہو گا، یعنی دنیا کے تمام انسانوں کے مجموعی وزن سے بھی زیادہ بھاری!
پلسارز: کائنات کے لائٹ ہاؤس
جب نیوٹران ستارہ سمٹتا ہے تو اس کی گردش کا اینگولر مومینٹم بے پناہ بڑھ جاتا ہے:
- بلینڈر سے تیز رفتار: یہ ستارہ اپنے محور پر ناقابلِ یقین تیزی سے گھومتا ہے۔ دریافت ہونے والا تیز ترین پلسار (PSR J1748-2446ad) ایک سیکنڈ میں 716 چکر لگاتا ہے!
- ریڈیو بیمز: اس کے دونوں مقناطیسی قطبین سے طاقتور ریڈیو شعاعیں نکلتی ہیں جو لائٹ ہاؤس کی طرح فضا میں گھومتی ہیں۔ زمین پر موجود دوربینیں ان دلفریب نبضوں (Pulses) کو کیچ کرتی ہیں جس کی بنیاد پر انہیں "پلسار" (Pulsar) کہا جاتا ہے۔
"نیوٹران ستارے کی کششِ ثقل اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ اگر آپ اس کی سطح سے ایک مارکر نیچے گرائیں تو وہ سیکنڈ کے کروڑویں حصے میں لاکھوں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرا کر ایٹمی دھماکے جیسی توانائی خارج کرے گا۔"
میگنیٹارز: کائنات کے طاقتور ترین مقناطیس
نیوٹران ستاروں کی ایک خاص قسم "میگنیٹار" (Magnetar) کہلاتی ہے جن کا مقناطیسی میدان کائنات کا طاقتور ترین فیلڈ ہے۔ یہ زمین کے مقناطیسی فیلڈ سے ایک ہزار کھرب (Quadrillion) گنا طاقتور ہوتا ہے۔ اگر کوئی میگنیٹار چاند کے فاصلے پر آ جائے تو وہ زمین پر موجود تمام انسانوں کے کریڈٹ کارڈز کے میگنیٹک ڈیٹا کو سیکنڈ میں اڑا دے گا اور ایٹمی سطح پر ڈی این اے کے مالیکیولز کو بکھیر دے گا۔