روئے زمین کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ (نیپالی میں «ساگرماتھا» یعنی آسمان کی پیشانی، اور تبتی میں «چومولنگما» یعنی کائنات کی دیوی ماں) 8,848.86 میٹر کی بلندی کے ساتھ ہوا بازی کے بین الاقوامی جیٹ طیاروں کی پرواز کی بلندی پر فخر سے کھڑی ہے۔ یہ صرف برف اور پتھر کا ایک بے جان پہاڑ نہیں ہے، بلکہ دو براعظموں کے مسلسل ارضیاتی تصادم کی ایک زندہ اور متحرک داستان ہے۔
سمندر کی تہہ سے آسمان کی بلندی تک
ایورسٹ کی تاریخ کا سب سے چونکا دینے والا سائنسی سچ یہ ہے کہ یہ عظیم پہاڑ ہمیشہ سے پہاڑ نہیں تھا۔ آج سے 6 کروڑ سال پہلے برصغیرِ پاک و ہند ایک الگ براعظم تھا جو بحر ہند میں تیرتا ہوا تیز رفتاری سے یوریشین پلیٹ سے ٹکرایا۔ دونوں کے درمیان موجود قدیم سمندر «ٹیتھیس» کی تہہ دب کر اوپر اٹھنا شروع ہو گئی اور ہمالیہ کے پہاڑ بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوہ پیما ایورسٹ کی بلند ترین چوٹی پر قدم رکھتے ہیں تو وہاں کی چٹانوں سے سمندری مچھلیوں اور گھونگھوں کے فوسلز (Yellow Band Limestone) برآمد ہوتے ہیں۔
ڈیتھ زون: جہاں زندگی اور موت کی سرحد مٹ جاتی ہے
ایورسٹ پر 26,000 فٹ (8,000 میٹر) سے اوپر کے خطے کو کوہ پیمائی کی دنیا میں «ڈیتھ زون» (Death Zone) کہا جاتا ہے۔ یہاں فضائی دباؤ اتنا کم ہو جاتا ہے کہ انسانی پھیپھڑے ہوا سے مناسب آکسیجن نہیں کھینچ پاتے۔ کوہ پیماؤں کا دل پاگلوں کی طرح دھڑکتا ہے، خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور دماغ میں سوجن (HACE) کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے۔ اس بلندی پر کوئی بھی انسان اضافی آکسیجن کے بغیر 48 گھنٹے سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
«ایورسٹ پر موسم اتنا خوفناک ہوتا ہے کہ سردیوں میں درجہ حرارت منفی 60 ڈگری تک گر جاتا ہے اور ہوائیں 280 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طوفان برپا کرتی ہیں۔»
زمین کی زندہ عمارت: ہر سال نئی بلندی
ہمارا سیارہ خاموش نہیں ہے۔ انڈین ٹیکٹونک پلیٹ آج بھی ہر سال 4 سے 5 سینٹی میٹر شمال کی طرف بڑھ رہی ہے اور ایشیا کی تہوں کو اوپر دھکیل رہی ہے۔ جدید جی پی ایس اور سیٹلائٹ پیمائشوں سے ثابت ہوا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ ہر سال 4 ملی میٹر مزید اونچا ہو جاتا ہے۔ یعنی آج کا ایورسٹ اس ایورسٹ سے کئی انچ اونچا ہے جس پر 1953ء میں ایڈمنڈ ہلیری اور ٹینزنگ نورگے نے پہلی بار تاریخی قدم رکھا تھا۔