رات کے بارہ بج رہے ہوں، گھڑی کی سوئیاں نصف شب کا اعلان کر رہی ہوں، اور آپ کھڑکی سے باہر دیکھیں تو آسمان پر چمکتی ہوئی سنہری دھوپ پھیلی ہو، بچے سڑکوں پر کھیل رہے ہوں اور کشتیاں دریا میں محوِ سفر ہوں! یہ کوئی خواب یا سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ ناروے، سویڈن اور گرین لینڈ کے خطوں کی جیتی جاگتی حقیقت ہے جسے "آدھی رات کا سورج" (Midnight Sun) کہا جاتا ہے۔
زمین کے 23.5 ڈگری جھکاؤ کا سائنسی کمال
ہمارا سیارہ زمین اپنے محور (Axis) پر بالکل سیدھا کھڑا نہیں ہے بلکہ سورج کے گرد گردش کے دوران 23.5 ڈگری کے زاویے پر جھکا ہوا ہے۔ اس جھکاؤ کی وجہ سے جب گرمیوں کے مہینے آتے ہیں تو زمین کا قطب شمالی (Arctic Circle) مستقل طور پر سورج کے سامنے آ جاتا ہے۔ زمین اپنے محور پر 24 گھنٹے میں ایک چکر مکمل کر لیتی ہے، مگر چونکہ قطبی خطہ ہمہ وقت سورج کی سیدھ میں رہتا ہے اس لیے سورج افق (Horizon) سے نیچے غروب ہی نہیں ہوتا بلکہ آسمان پر گول چکر کاٹتا رہتا ہے۔
76 دن تک سورج کا نہ ڈوبنا
ناروے کے شمالی ترین جزائر سوالبارڈ (Svalbard) میں 10 اپریل سے لے کر 23 اگست تک — یعنی مسلسل 4 ماہ سے زیادہ — سورج ایک سیکنڈ کے لیے بھی غروب نہیں ہوتا۔ لوگ آدھی رات کو پہاڑوں پر ہائیکنگ کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں اور کھڑکیوں پر موٹے بلیک آؤٹ پردے لگا کر سوتے ہیں تاکہ دن اور رات کی تمیز قائم رکھی جا سکے۔
"جب گرمیوں میں 24 گھنٹے دھوپ رہتی ہے تو اسی کے برعکس سردیوں میں «قطبی رات» (Polar Night) کا راج ہوتا ہے جہاں مہینوں سورج طلوع نہیں ہوتا۔"
قطبی رات کا سناٹا اور حیاتیاتی چیلنج
نومبر سے جنوری تک انہی خطوں میں سورج افق سے اوپر سرے سے آتا ہی نہیں، اور دن کے 12 بجے بھی نیلی گودھولی یا گھپ اندھیرا رہتا ہے۔ اس دوران انسانوں میں وٹامن ڈی کی کمی اور موسمی ڈپریشن (SAD) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کے لیے لوگ خصوصی لائٹ تھراپی لیمپ استعمال کرتے ہیں۔ اس طویل اندھیرے کا سب سے خوبصورت تحفہ رات کے آسمان پر جگمگاتی قطبی روشنیاں (Aurora Borealis) ہیں جو ان دنوں میں اپنے عروج پر رقص کرتی ہیں۔