زمین اور کائنات ⏱️ مطالعہ کا وقت: 6 منٹ قدرتی سمندری جغرافیہ

برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ — بحر اوقیانوس کا پراسرار خطہ اور جدید سائنسی حقائق

سائنسی نام: Atlantic Ocean (Sargasso Sea)

فلائٹ 19 اور بحری جہازوں کی گمشدگی کے پیچھے آسیب یا میتھین ہائیڈریٹ گیس اور راگ ویوز کا سائنسی سچ؟

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سمندر کی تہہ میں منجمد میتھین گیس کے اچانک اخراج سے پانی کی کثافت اتنی گر جاتی ہے کہ جہاز یک دم غرق ہو سکتے ہیں۔
  • ✦ یہ زمین کے ان چند مقامات میں سے ہے جہاں قطب نما مقناطیسی شمال کے بجائے سچے جغرافیائی شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
  • ✦ امریکی کوسٹ گارڈ اور لائیڈز آف لندن کے مطابق اس خطے میں حادثات کی شرح دنیا کے کسی بھی دوسرے مصروف سمندری راستے سے زیادہ نہیں ہے۔

بحرِ اوقیانوس کے نیلگوں پانیوں میں میامی، برمودا اور پورٹو ریکو کے تین کونوں کے درمیان گھرا خطہ جسے دنیا "برمودا ٹرائی اینگل" (Bermuda Triangle) یا "شیطانی مثلث" کے نام سے جانتی ہے، پچھلی ایک صدی سے پراسرار گمشدگیوں، بھوتیا کہانیوں اور مافوق الفطرت افواہوں کا مرکز رہا ہے۔ لیکن جدید سمندری سائنس اور جیولوجی نے اس طلسماتی پردے کو چاک کر کے وہ سائنسی حقائق سامنے لائے ہیں جو فکشن سے کہیں زیادہ دلچسپ ہیں۔

شہرت کا آغاز: فلائٹ 19 کا المناک واقعہ

برمودا ٹرائی اینگل کی پراسراریت کا چرچا 5 دسمبر 1945ء کو اس وقت عروج پر پہنچا جب امریکی بحریہ کے 5 تارپیڈو بمبار طیارے (Flight 19) معمول کی تربیتی پرواز پر روانہ ہوئے اور کمانڈر کے کمپاس خراب ہونے کے بعد بحر اوقیانوس میں غائب ہو گئے۔ ان کی تلاش میں بھیجا گیا ایک ریسکیو طیارہ بھی ہوا میں پھٹ کر تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد درجنوں بحری جہازوں (جیسے یو ایس ایس سائکلوپس) کے ملبے نہ ملنے پر مافوق الفطرت قوتوں کے قصے گھڑے گئے۔

جدید سائنس کی تین ٹھوس وضاحتیں

سائنسدانوں، بحری ماہرین اور امریکی کوسٹ گارڈ نے طویل تحقیق کے بعد برمودا ٹرائی اینگل کے حوادث کے تین بنیادی سائنسی اسباب بیان کیے ہیں:

  • میتھین ہائیڈریٹ کے غبارے (Methane Eruptions): سمندر کی تہہ میں منجمد میتھین گیس کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔ جب ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت سے یہ گیس بڑے پیمانے پر بلبلوں کی صورت میں خارج ہوتی ہے تو پانی میں جھاگ بن جاتی ہے اور پانی کی کثافت (Density) انتہائی کم ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی بحری جہاز چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو، چند سیکنڈ میں گہرے سمندر کی تہہ میں ڈوب جاتا ہے۔
  • خوفناک لہریں (Rogue Waves): اس خطے میں مختلف سمتوں سے آنے والے طوفان آپس میں ٹکراتے ہیں، جس سے سمندر میں اچانک 100 فٹ (30 میٹر) اونچی عمودی دیو قامت لہریں پیدا ہوتی ہیں جو کسی بھی جہاز کو دو لخت کر سکتی ہیں۔
  • گلف اسٹریم کی طاقتور رو (Gulf Stream): سمندر کے اندر ایک تیز رفتار دریا کی طرح بہنے والا یہ کرنٹ 9 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتا ہے اور تباہ ہونے والے جہاز کے ملبے کو چند گھنٹوں میں سینکڑوں میل دور گہرے کھڈ میں بہا لے جاتا ہے جس سے کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔
"برمودا ٹرائی اینگل دنیا کی سب سے گہری خندقوں میں سے ایک پورٹو ریکو ٹرینچ (گہرائی 27,493 فٹ) پر محیط ہے، جہاں گرنے والی چیز کو ڈھونڈنا ناممکن ہوتا ہے۔"

اعداد و شمار کی زبانی حقیقت

برطانیہ کی دنیا کی سب سے بڑی سمندری انشورنس کمپنی "لائیڈز آف لندن" کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق برمودا ٹرائی اینگل میں سالانہ لاکھوں تجارتی پروازیں اور بحری جہاز بحفاظت گزرتے ہیں۔ رقبے اور ٹریفک کے تناسب سے یہاں جہازوں کے ڈوبنے کی اوسط دنیا کے کسی بھی دوسرے عام سمندر جتنی ہی ہے، اور اس کے پیچھے کوئی ماورائی طاقت نہیں بلکہ خطرناک موسم اور انسانی غلطیاں کارفرما ہیں۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: