جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے

جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
در حقیقت تیرے ﷺ دیوانوں کا جشنِ عام ہے

عظمتِ فرقِ شہِ کونین کیا جانے کوئی
جس نے چومے پائے اقدس ﷺ عرش اُس کا نام ہے

آ رہے ہیں وہ سرِ محشر شفاعت کے لیے
اب مجھے معلوم ہے جو کچھ مِرا انجام ہے

تو اگر چاہے تو پھر جائیں سیہ کاروں کے دن
ہاتھ میں تیرے عنانِ گردشِ ایّام ہے

روئے انور کا تصور زلفِ مشکیں کا خیال
کیسی پاکیزہ سحر ہے کیا مبارک شام ہے

دل کو یہ کہہ کر رہِ طیبہ میں بہلاتا ہوں میں
آ گئی منزل تِری، بس اور دو ،اک گام ہے

سا قیِ کوثرﷺ کا نامِ پاک ہے وردِ زباں
کون کہتا ہے کہ تحسیؔں آج تشنہ کام ہے

Previous جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا Next جس نے مدینے جانا کر لو تیاریاں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے