جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہوا

جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہوا تب کسی چیز کی بھی کمی نہ رہی

جو بھی آیا گدا بن کے آیا یہاں سر جھکے کوئی گردن تنی نہ رہی

اس درِ پاک کی عظمتوں کی قسم جو بھی آیا یہاں جھولی بھر کے گیا

رحمتیں اتنی ارزاں لٹائی گئیں غم کے ماروں کو کوئی غمی نہ رہی

بے کسوں بے بسوں کو پناہ مل گئی عاصیوں کو بھی بخشش کی جا مل گئی

دیکھ کر اشک آنکھوں میں سرکار کی بارشِ ابرِ رحمت تھمی نہ رہی

دو جہاں میں وہ بدبخت شیطاں بنے ربِ کعبہ بھی بیزار اس سے رہے

اس درِ پاک سے جو بھی راندہ گیا بات کوئی بھی اس کی بنی نہ رہی

Previous تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا​ Next جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے