غزوہ بنو قریظه (ذی قعدہ یوم چهارشنبه ۵ هجری)
جب آنحضرت غزوہ خندق سے واپس تشریف لائے تو نماز ظہر کے بعد بنو قریظه سے جنگ کا حکم آیا۔ بنو قریظه نقض عہد کر کے احزاب کے ساتھ مل گئےتھے۔
اس لیے حضور تین ہزار کی جمعیت کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ اور پچیس دن ان کو محاصرہ میں رکھا۔ آخر کار انہوں نے حضرت سعد بن معاذکا حکم منظور کر لیا۔ حضرت سعد نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مرد قتل کیے جائیں۔ عورتیں اور بچے گرفتار کر لیے جائیں اور ان کا مال و اسباب غنیمت سمجھا جائے۔ اس پر آنحضرت فرمایا:
قضيت بحكم الله
” تو نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ” (استشاء باب ۲۰ آیت ۱۰)
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ مردوں کی تعداد چھ یا سات سو تھی۔
