حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے

حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے

غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے

جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے

پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے

دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے

Previous حدودِ طائر سدرہ حضور جانتے ہیں Next حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے