ہم مدینے کی جانب چلے جو اگر

ہم مدینے کی جانب چلے جو اگر
فاصلے خود بخود ہی سمٹ جائیں گے
میرے آقا کی نظرِ کرم جو اُٹھی
خوف سارے کے سارے ہی مٹ جائیں گے

اے برستی گھٹا اور اے بپھرے بحر
تیری مرضی بھلے تو ٹھہر نہ ٹھہر
ہم تو پہنچیں گے اُڑ کے درِ پاک پر
یہ نہ سمجھو کہ راہ سے پلٹ جائیں گے

کر کے اشکِ ندامت سے آنکھوں کو نم
طیبہ نگری میں جیسے ہی پہنچیں گے ہم
لاکھ روکے زمانہ خدا کی قسم
ہم تو جالی سے جا کے لپٹ جائیں گے

سبز گنبد پہ جب کہ پڑے گی نظر
رکھ کے چوکھٹ پہ ہم اپنا ادنیٰ سا سر
جب کہیں گے اے شافعِ روزِ حشر
غم کے بادل تو فوراََ ہی چھٹ جائیں گے

Previous ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے Next ہے شہر انوکھا طیبہ دا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے