حبیب خدا کا نظارہ کروں میں

habib e khuda ka nazara kroun main

حبیب خدا کا نظارہ کروں میں
دل و جان ان پر نثارا کروں میں

مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کر دے
سوا تیرے سب سے کنارہ کروں میں

میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں
تیرے در سے اپنا گزارہ کروں میں

تیرے نام پر سر کو قربان کر کے
تیرے سر سے صدقہ اتارا کروں میں

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں

دم واپسی تک تیرے گیت گاؤں
محمدﷺ محمد ﷺپکارا کروں میں

میرا دین وایماں فرشتے جو پوچھیں
تمھاری ہی جانب اشارہ کروں میں

خدا ایسی قوت دے میرے قلم میں
کہ بد مذہبوں کو سدھارا کروں میں

خدا خیر سے لائے وہ دن بھی
نوریؔ مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں

Previous چمن دلوں کے کھلانا حضور جانتے ہیں Next حدودِ طائر سدرہ حضور جانتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے