فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر

faslo ko takaluf hy hum sy agr

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر
ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں

خود اُنھی کو پُکاریں گے ہم دُور سے
راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے

ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے
اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے

ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے

سر جُھکانے کی فُرصت ملے گی کِسے
خُود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے

نامِ آقا جہاں بھی لیا جائے گا
ذکر اُن کا جہاں بھی کیا جائے گا

نُور ہی نُور سینوں میں بھر جائے گا
ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے

اے مدینے کے زائر خُدا کے لیے
داستانِ سفر مُجھ کو یوں مت سُنا

بات بڑھ جائے گی ، دل تڑپ جائے گا
میرے محتاط آنسُو چھلک جائیں گے

اُن کی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر
کس مُسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر

ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی
ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے

اقبال عظیم

Previous عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن Next فضلِ رَب العلیٰ اور کیا چاہیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے