دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے

دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
جو مانتا نہیں ہے بڑا ہی جہول ہے

دل میں اگر نبی کا عشق موجزن نہیں
پھر حج نماز روزہ سبھی کچھ فضول ہے

خارِ مدینہ اصل میں جنت کا پھول ہے

جو مصطفےٰ کے در پہ ادب سے جھکا نہیں
اسکا کوئی بھی عمل نہ رب کو قبول ہے

ہر دم نبی کی ذات پہ پڑھنا درود کا
محبوؔب روز و شب یہ ہمارا معمول ہے

Previous دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی Next دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے