حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
کعبہ کی طرف جو نظر اٹھ گئی، دل نے کہا ہے اقبال کو دیکھو۔
Kaaba ki taraf jo nazar uthi, dil ne kaha hai Iqbal ko dekho.
When the gaze was raised toward the Kaaba, the heart said, look at Iqbal.
چراغِ کعبہ و شمعِ شبستانِ حرم احمد
بہارِ گلشنِ ہستی و جانِ محترم احمد
مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا
ہم سبھی مہماں تھے تو ہی شمع اس محفل میں تھا
کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترا
مے کدہ تیرا ہے کعبہ ترا بت خانہ ترا سب ہے جانانہ ترا
جبرائیل کو درباں کا شرف کس نے ہے بخشا
اور کعبہ کو قبلے کا شرف کس نے ہے بخشا
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں، کہ ہم
الٹے پھر آئے، درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
تم ناطق قرآن ہو تم کعبۂ ایمان ہو
ہو نور ختم الانبیا مولا علی مولا علی
کعبہ ہمارا کوئے محمد صل اللہ علیہ وسلم
مصحف ایماں روئے محمد صل اللہ علیہ وسلم
طوافِ کعبہ کی گہما گہمی سرور طیبہ کے رت جگوں کا
ابھی تو یادوں کے گل ہیں تازہ ابھی زوالِ بہار کیوں ہے
مقصود مریداں ہو اے مرشد لا ثانی
تم قبلۂ دینی ہو تم کعبۂ ایمانی
ہے عرشاں دا کعبہ تے کسے دا قبلہ
حسیں روضہ مصفف الا الله الله الله
جب دونوں ہی روشن ہیں اک تیری تجلی سے
پھر کعبہ تو کعبہ ہے بت خانے کو کیا کہئے
ہر خواہشِ نفس میری اک بت ہے میرے دل کا
بت خانئہ دل میرا کعبہ سا بنا جانا
شمعِ حرم بھی تو ہے صنم کا صنم بھی تو
کعبہ میں جا کے کون تجھے ڈھونڈ لا سکے
سب کی نظر ہے سوئے کعبہ
کعبہ تکے ہے روئے محمدﷺ صلی اللہ علیہ وسلم
بُت شِکن آیا یہ کہہ کر سر کے بل بُت گر گئے جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلوۃ والسلام
سر جُھکا کر با ادب عشقِ رسول اللہ میں کہہ رہا تھا ہر ستارہ الصلوۃ والسلام
من سجدہ کنان در کوئے تو اے کعبۂ جان و قبلۂ دل
رخسارِ درخشاں دیکھ کے ہی صدقے ہوئی سب دنیا جانا
گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقشہ بند
میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں
آپ کی نگاہ اٹھی اور کعبہ قبلہ بن گیا
آپ کی انگلی اٹھی اور ٹوٹ پھوٹ قمر گیا
یاد عطا ہے طواف ِ خانہ ٔ کعبہ مجھے
اور لپٹنا ملتزم سے والہانہ بار بار
اک منظر ارض نے بھی دیکھا کعبہ سے لے کر تا اقصیٰ
لولاک کے مالک صلِ علیٰ نبیوں نے کہا یہ سر کو جھکا
ہے کعبہ بھی جلوۂِ احمد سے روشن
مگر اللہ اللہ نکھارِ مدینہ
اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہ سائی سے
تو سنگ آستان کعبہ جا ملتا جبینوں میں
کعبۂ جان و دل ہے بس وہی دربارِ حبیب
وہیں پہ جا کر ملا ہے وہ ٹھکانا دل کا
کعبے کو کس نے بنایا قبلہ
کعبے کا کعبہ روئے محمدﷺ صلی اللہ علیہ وسلم
کعبۂ عشق تو میں ترے چار سو
تو اثر میں دعا تو کجا من کجا
رات دِن رحمت برستی ہے جہاں پر جھوم کر
اُن طوافِ کعبہ کے رنگیں نظاروں کو سلام
دو جہاں میں وہ بدبخت شیطاں بنے ربِ کعبہ بھی بیزار اس سے رہے
اس درِ پاک سے جو بھی راندہ گیا بات کوئی بھی اس کی بنی نہ رہی
ناف زمیں ہے شہ کا مانند کعبہ روضہ
شرقی ادھر سے قرباں غربی ادھر سے صدقے
در یا ر دا اے قبلہ تے کعبہ اینہاں لئی
سنگ یار دی گلی دا اے سجادہ ایہناں لئی
کعبہ تمہیں ہو قبلہ تمہیں ہو
جو کچھ ہو اے جان تمہیں ہو
زائران کعبہ سے اقبالؔ یہ پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں
یا شرع مسلمانی یا دیر کی دربانی
یا نعرۂ مستانہ کعبہ ہو کہ بت خانہ
دھوم دیکھی درِ کعبہ پہ بے تابوں کی
اُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو
جھومتا ہے وجد میں کعبہ خوشی میں آج
کہ رہے ہیں ممبر و مینار مرحبا
ہم سب کا رخ سوئے کعبہ سوئے محمد روئے کعبہ
کعبے کا کعبہ کوئے محمد صل اللہ علیہ وسلم
سجدۂ سر ہے سوئے کعبہ
سجدۂ دل ہے سوئے محمدﷺ صلی اللہ علیہ وسلم
سنگِ اسود باب و میزاب و مقام ملتزم
اور غلاف کعبہ کے رنگیں نظاروں کو سلام
عاشقوں سجدہ نماز عشق کا ہوگا وہاں
قبلہ و کعبہ امام الاؤلیا کلیر میں ہے
جس کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی
ان بھنووں کی لطافت پے لاکھوں سلام
وہ کعبہ ہے جہاں سر جھک رہے ہیں ا ہلِ عالم کے
مگر کعبہ بھی جس کے سامنے خم ہو گیا، تم ہو
اقصیٰ دی شان دی نہ حد نہ شمار
کعبہ دے غرور دی اے گل وکھری
دینے والے نے سب کچھ دیا ہے
کعبہ عشق کا ہو نمازی
کعبہ کعبہ کے خوش منظر نظاروں پر درود
مسجد نبوی کی صبحوں اور شاموں کو سلام
خشک زاہد کیا خبر تجھ کو مقام عشق کی
عاشقوں کے عشق کا کعبہ بنا کلیر میں ہے
سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبے کا طواف
کعبہ کرتا ہے طواف در والا تیرا
آپ کی شان عُلیٰ ہے دیکھنی تو دیکھ لو
ربِ کعبہ کر رہا ہے آپ کی دلداریاں
خوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ
قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو
کعبہ و عرش میں کہرام ہے نا کامی کا
آہ کس بزم میں ہے جلوۂ یکتائیِ دوست