لغت پر واپس جائیں

چارہ

Chara

चारा, उपाय

Chaara, Upaay

Remedy, solution, fodder

Noun
Persian Masculine

معانی / Meanings 0 −

Remedy, solution, fodder

تفصیل / Detail −

This word has two primary meanings: 1. A remedy, solution, recourse, or option for a problem (e.g., 'کوئی چارہ نہیں' - 'no other option'). 2. Fodder or feed for animals. The meaning is determined by context.

شاعری / Poetry (Sher) 29 −

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی
تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی
دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
یا مجھ کو مدینے پہنچا دو یا میرے بڑوں کو خبر کرو
یا نبی تیرے کرم کی انتہا کوئی نہیں
بے کسوں کا تیرے بن چارہ نما کوئی نہیں
ہم نے سو بار کیا چارہ گری کا سودا
پر ترے زخم کا مرہم نہیں ہو سکتا
نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لو
اے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہیے
ہم بھی پیاسے ہیں دیر سے یارو
اک نظر کو تو چارہ گر کر دے
گاہے بہ گاہے جو کفالت کر رہا ہے خود میری
اور کیا مانگوں بھلا اُس چارہ گر کے سامنے
احساس فزوں جب ہوتاہے اُس بابِ کرم سے دوری کا
وہ قلب ہی جانے بے چارہ جو قلب کی حالت ہوتی ہے
تشنہ لبوں کو جامِ شفاعت پلائیے
محرومِ التفات کا چارہ تمہی تو ہو
کوئی نہیں لوٹتا خالی درِ پاک سے
جھولیاں بھرتے ہیں سب چارۂ شیدا کے پاس
تشنہ لبوں کو جامِ کرم سے نواز دو
ہر رنج و غم کا چارہ و حاصل تمہیں تو ہو
ہر مریضِ المِ دل کو شفا کی ہے نوید
چارہ سازی کا اشارہ ترے در سے ملا
محشر کے روز بنے گی شفاعت پناہِ امت
سلام اے عاصیوں کے درداں دا چارہ ساز و سرور
بگڑی میری بنا دو در پہ مجھے بلا لو
اپنے غلام کی تم خود کرنا چارہ جوئی
گہہ مریض و مرض مسیح بن وہی چارہ ساز دوا بنا
کہیں دل بنا کہیں دل ربا کہیں اپنا درد نہاں ہوا
مریضِ ہجرِ مدینہ ہوں ، مِرے چارہ گرو
دِلادو ! اذنِ حضور ی مجھے شِفاء کے لیے
غم کے ماروں کا وہ مونس و چارہ گر
بے کسوں کا سہارا ہمارا نبیؐ
لے چلو اب مدینے کو چارہ گرو
مجھ کو طیبہ کی آب و ہوا چاہیے
جس کی خاکِ قدم بھی ہے خاکِ شفا
میرے زخموں کو وہ چارہ گر چاہیے
بیدمؔ خستہ ہجر میں بن گئی جان زار پر
جس نے دیا ہے درد دل کاش وہ چارہ ساز ہو
تو اے مولائے یثرب آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی مرا ایماں ہے زناری
تم چارۂ عالم ہو جو بے چارہ ہے بیدمؔ
محتاج ہے یہ تم تو امیر الامرا ہو
اُن کی بستی میں لے چل مجھے
چارہ گر دیکھنی ہیں وہ گلیاں فقط اک نظر
رنج اَعدا کا رؔضا چارہ ہی کیا ہے جب انھیں
آپ گستاخ رکھے حلم و شکیبائیِ دوست
عرض کا بھی اب تو منھ پڑتا نہیں کیا علاج ِ دردِ فرقت کیجیے
اپنی اک میٹھی نظر کے شہد سے چارۂ زہرِ مصیبت کیجیے
بے کس کا تم ہو سہارا بے چارے کا تم ہو چارہ
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
اپنے دل کا ہے انہیں سے آرام سونپے ہیں اپنے انہیں کو سب کام
لو لگی ہے کہ اب اس دَر کے غلام چارۂ دردِ رضا کرتے ہیں
مشاہدات 1
آئی ڈی #98499
اضافہ 10 اگست 2026
اصل Persian
مزید الفاظ تلاش کریں