زمین اور کائنات ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ کرۂ ارض کا سب سے حساس اور خطرناک زلزلہ خیز خطہ

پیسیفک رنگ آف فائر — روئے زمین کے 75 فیصد آتش فشاں اور 90 فیصد زلزلوں کا خونی دائرہ

سائنسی نام: Circum-Pacific Belt (Ring of Fire)

جاپان، انڈونیشیا، چلی اور کیلیفورنیا کو ہر لمحہ لرزانے والی زمین کی اندرونی بھٹی جہاں لاوے کے ابلتے سمندر زمین کے چہرے کو تراشتے ہیں

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ دنیا کے 75 فیصد فعال آتش فشاں (450 سے زائد) اور روئے زمین پر آنے والے 90 فیصد تباہ کن زلزلے اسی 40,000 کلومیٹر کے دائرے میں رونما ہوتے ہیں۔
  • ✦ تاریخ کا سب سے ہولناک زلزلہ (1960ء کا چلی زلزلہ — شدت: 9.5) اور تاریخ کا سب سے زوردار آتش فشانی دھماکہ (1883ء کا کراکاٹوا دھماکہ) دونوں اسی رنگ آف فائر پر واقع ہوئے۔
  • ✦ زمین کی سب سے گہری کھائی «ماریانا ٹرینچ» (11 کلومیٹر گہری) بھی اسی دائرے میں واقع ہے جہاں پیسیفک پلیٹ ماریانا پلیٹ کے نیچے پھسل رہی ہے۔

بحرِ الکاہل کے نیلگوں اور پرسکون پانیوں کے کناروں کے گرد گھومتی ہوئی چالیس ہزار کلومیٹر لمبی ایک ایسی پٹی ہے جسے ارضیات دان «رنگ آف فائر» (Ring of Fire) یعنی آتشیں دائرہ کہتے ہیں۔ یہ گھوڑے کی نعل کی شکل کا وہ خطرناک ترین خطہ ہے جو نیوزی لینڈ سے شروع ہو کر، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس کے جزیرہ نما کامچٹکا، الاسکا، اور پھر امریکہ، میکسیکو سے ہوتا ہوا چلی کے ساحلوں تک جاتا ہے۔ یہ زمین کا وہ دہکتا ہوا تندور ہے جہاں ہمارا سیارہ ہر لمحہ اندرونی لاوے اور ہولناک زلزلوں سے لرزتا رہتا ہے۔

سبڈکشن زونز: پلیٹوں کا خونی تصادم

رنگ آف فائر اتنی خطرناک کیوں ہے؟ اس کا جواب پلیٹ ٹیکٹونکس کی سائنس میں چھپا ہے۔ بحر الکاہل کی دیو قامت اور وزنی سمندری پلیٹ (Pacific Plate) چاروں طرف سے براعظمی پلیٹوں (شمالی امریکہ، یوریشیا اور آسٹریلیا) کے ساتھ ٹکرا رہی ہے۔ چونکہ سمندری چٹانیں زیادہ وزنی ہوتی ہیں، اس لیے وہ دوسری پلیٹوں کے نیچے زمین کی اندرونی پگھلتی گہرائیوں میں دھنس جاتی ہیں۔ اس عمل کو «سبڈکشن» (Subduction) کہا جاتا ہے۔ نیچے جا کر جب چٹانیں پگھلتی ہیں تو وہ انتہائی دباؤ والی گیس اور میگما بن کر آتش فشانوں کے دہانوں سے باہر پھوٹ پڑتی ہیں۔

تاریخ کے ہولناک ترین آفات کا مرکز

انسانی تاریخ کی لرزہ خیز ترین قدرتی آفات کا منبع یہی رنگ آف فائر رہا ہے:

  • 1883ء کا کراکاٹوا (انڈونیشیا): اس آتش فشاں کے پھٹنے کی آواز 4800 کلومیٹر دور تک سنائی دی تھی، جو انسانی تاریخ کی سب سے بلند آواز تھی، اور اس کی راکھ نے دنیا کا درجہ حرارت ایک سال تک گرا دیا تھا۔
  • 2004ء کا بحرِ ہند کا سونامی: 9.1 شدت کے زلزلے نے 100 فٹ اونچی لہریں پیدا کیں جس سے ڈھائی لاکھ انسان لقمۂ اجل بنے۔
  • 2011ء کا توہوکو زلزلہ (جاپان): 9.0 شدت کے زلزلے نے نہ صرف سونامی پیدا کیا بلکہ فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ کو تباہ کر کے جاپان کے مین جزیرے کو 8 فٹ کھسکا دیا۔
«پیسیفک رنگ آف فائر اگرچہ انسانوں کے لیے تباہ کن ہے، لیکن یہی وہ بھٹی ہے جس کے خارج کردہ منرلز اور لاوے نے زمین پر انتہائی زرخیز مٹی اور جزائر پیدا کیے ہیں۔»

سونامی کا وارننگ سسٹم اور سائنسی پیشرفت

چونکہ رنگ آف فائر پر دنیا کی 80 کروڑ سے زائد آبادی بستی ہے، اس لیے سائنسدانوں نے بحر الکاہل کی تہہ میں ہزاروں جدید ترین پریشر سینسرز اور سیٹلائٹ بوائز (DART Buoys) کا جال بچھا رکھا ہے۔ زلزلہ آتے ہی سیکنڈوں کے اندر سونامی کے بننے کا سُراغ لگا لیا جاتا ہے اور ساحلی شہروں میں سائرن بجا کر لاکھوں انسانی جانوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: