بحرِ الکاہل کے نیلگوں اور پرسکون پانیوں کے کناروں کے گرد گھومتی ہوئی چالیس ہزار کلومیٹر لمبی ایک ایسی پٹی ہے جسے ارضیات دان «رنگ آف فائر» (Ring of Fire) یعنی آتشیں دائرہ کہتے ہیں۔ یہ گھوڑے کی نعل کی شکل کا وہ خطرناک ترین خطہ ہے جو نیوزی لینڈ سے شروع ہو کر، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس کے جزیرہ نما کامچٹکا، الاسکا، اور پھر امریکہ، میکسیکو سے ہوتا ہوا چلی کے ساحلوں تک جاتا ہے۔ یہ زمین کا وہ دہکتا ہوا تندور ہے جہاں ہمارا سیارہ ہر لمحہ اندرونی لاوے اور ہولناک زلزلوں سے لرزتا رہتا ہے۔
سبڈکشن زونز: پلیٹوں کا خونی تصادم
رنگ آف فائر اتنی خطرناک کیوں ہے؟ اس کا جواب پلیٹ ٹیکٹونکس کی سائنس میں چھپا ہے۔ بحر الکاہل کی دیو قامت اور وزنی سمندری پلیٹ (Pacific Plate) چاروں طرف سے براعظمی پلیٹوں (شمالی امریکہ، یوریشیا اور آسٹریلیا) کے ساتھ ٹکرا رہی ہے۔ چونکہ سمندری چٹانیں زیادہ وزنی ہوتی ہیں، اس لیے وہ دوسری پلیٹوں کے نیچے زمین کی اندرونی پگھلتی گہرائیوں میں دھنس جاتی ہیں۔ اس عمل کو «سبڈکشن» (Subduction) کہا جاتا ہے۔ نیچے جا کر جب چٹانیں پگھلتی ہیں تو وہ انتہائی دباؤ والی گیس اور میگما بن کر آتش فشانوں کے دہانوں سے باہر پھوٹ پڑتی ہیں۔
تاریخ کے ہولناک ترین آفات کا مرکز
انسانی تاریخ کی لرزہ خیز ترین قدرتی آفات کا منبع یہی رنگ آف فائر رہا ہے:
- 1883ء کا کراکاٹوا (انڈونیشیا): اس آتش فشاں کے پھٹنے کی آواز 4800 کلومیٹر دور تک سنائی دی تھی، جو انسانی تاریخ کی سب سے بلند آواز تھی، اور اس کی راکھ نے دنیا کا درجہ حرارت ایک سال تک گرا دیا تھا۔
- 2004ء کا بحرِ ہند کا سونامی: 9.1 شدت کے زلزلے نے 100 فٹ اونچی لہریں پیدا کیں جس سے ڈھائی لاکھ انسان لقمۂ اجل بنے۔
- 2011ء کا توہوکو زلزلہ (جاپان): 9.0 شدت کے زلزلے نے نہ صرف سونامی پیدا کیا بلکہ فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ کو تباہ کر کے جاپان کے مین جزیرے کو 8 فٹ کھسکا دیا۔
«پیسیفک رنگ آف فائر اگرچہ انسانوں کے لیے تباہ کن ہے، لیکن یہی وہ بھٹی ہے جس کے خارج کردہ منرلز اور لاوے نے زمین پر انتہائی زرخیز مٹی اور جزائر پیدا کیے ہیں۔»
سونامی کا وارننگ سسٹم اور سائنسی پیشرفت
چونکہ رنگ آف فائر پر دنیا کی 80 کروڑ سے زائد آبادی بستی ہے، اس لیے سائنسدانوں نے بحر الکاہل کی تہہ میں ہزاروں جدید ترین پریشر سینسرز اور سیٹلائٹ بوائز (DART Buoys) کا جال بچھا رکھا ہے۔ زلزلہ آتے ہی سیکنڈوں کے اندر سونامی کے بننے کا سُراغ لگا لیا جاتا ہے اور ساحلی شہروں میں سائرن بجا کر لاکھوں انسانی جانوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔