سورج ہمارے نظام شمسی کا منبعِ حیات ہے، مگر یہی سورج ہر سیکنڈ میں کروڑوں ٹن قاتل برقی ذرات، شمسی ہوائیں (Solar Winds) اور جان لیوا تابکاری خلا میں اگلتا ہے۔ اگر یہ تابکاری براہِ راست زمین پر پہنچ جائے تو چند لمحوں میں تمام جانداروں کے خلیات بھن کر راکھ ہو جائیں۔ انسان اور تمام مخلوقات کو اس کائناتی بھٹی سے بچانے کے لیے قدرت نے ایک نادیدہ آسمانی بکتر بند قائم کر رکھا ہے جسے "زمین کا مقناطیسی میدان" (Magnetosphere) کہا جاتا ہے۔
قرآنی معجزہ: "محفوظ چھت" کی سائنسی تصدیق
قرآن کریم کی سورۃ الانبیاء (آیت 32) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا" (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا، مگر وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں)۔ چودہ سو سال بعد جدید ایسٹرو فزکس نے تصدیق کی کہ زمین کے گرد خلا میں ہزاروں کلومیٹر تک پھیلا ہوا مقناطیسی میدان اور اوزون کی تہہ واقعی ایک نادیدہ مگر فولادی چھت کی طرح کام کرتی ہے جو قاتل شعاعوں کو زمین میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔
زمین کے مرکز میں گھومتا ہوا پگھلا لوہا (Geodynamo)
یہ مقناطیسی میدان کیسے بنتا ہے؟ زمین کی سطح سے تقریباً 3000 کلومیٹر نیچے اس کا بیرونی کور (Outer Core) واقع ہے جو پگھلے ہوئے ابلتے ہوئے لوہے اور نکل پر مشتمل ہے۔ زمین کی گردش اور اندرونی حرارت کی وجہ سے یہ پگھلا ہوا لوہا ایک دیو قامت جنریٹر کی طرح گھومتا ہے جس سے برقی رو پیدا ہوتی ہے اور یوں پورے سیارے کے گرد ایک طاقتور مقناطیسی فیلڈ تشکیل پاتا ہے جس کے دو قطب (شمالی اور جنوبی) ہیں۔
"جب شمسی طوفان زمین کی مقناطیسی ڈھال سے ٹکراتے ہیں تو وہ قطبین کی طرف مڑ کر قطبی روشنیوں (ناردرن لائٹس) کی صورت میں دم توڑ دیتے ہیں۔"
مریخ کا عبرتناک انجام اور زمین کا تحفظ
سائنسدان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے مریخ پر بھی دریا، سمندر اور گھنی فضا موجود تھی۔ لیکن مریخ کا اندرونی مرکز چھوٹا ہونے کے باعث ٹھنڈا ہو کر جم گیا اور اس کا مقناطیسی فیلڈ ختم ہو گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سورج کی بے لگام ہواؤں نے مریخ کے ماحول اور پانی کو فضا میں اڑا دیا اور وہ ایک بنجر، مردہ سرخ ریگستان بن گیا۔ زمین کا متحرک مقناطیسی میدان ہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بدولت آج ہمارا سیارہ نیلا، سرسبز اور زندگی سے بھرپور ہے۔