ہم اکثر اپنے پاؤں تلے رینگنے والی ننھی چیونٹی کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ننھا سا کیڑا زمین پر انجینئرنگ، معاشرت، عسکری نظم و ضبط اور جسمانی طاقت کا ایسا شاہکار ہے جس کے آگے انسانی ٹیکنالوجی بھی ماند پڑ جاتی ہے؟ قرآن پاک میں حضرت سلیمانؑ اور چیونٹی کا مکالمہ سورۃ النمل میں اس کی فہم و فراست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حیرت انگیز طاقت کا سائنسی راز
اگر ایک 70 کلوگرام وزنی انسان میں چیونٹی جیسی طاقت آ جائے تو وہ 3500 کلوگرام وزنی ایک بڑی ٹرک یا گاڑی کو اکیلا سر پر اٹھا کر دوڑ سکے گا! سائنسدانوں کے مطابق چیونٹی کے جسم کا سائز چونکہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لیے اس کے پٹھوں کی کثافت (Muscle Density) اس کے جسمانی حجم کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہے۔
چیونٹیوں کی خفیہ سپر پاورز
- کانوں کے بغیر سننا: چیونٹیوں کے کان نہیں ہوتے، وہ زمین پر ہونے والے ہلکے سے ارتعاش (Vibrations) کو اپنی ٹانگوں میں موجود خصوصی سینسرز سے محسوس کرتی ہیں۔
- دو پیٹ: ہر چیونٹی کے دو پیٹ ہوتے ہیں؛ ایک پیٹ میں وہ اپنی ذاتی خوراک رکھتی ہے جبکہ دوسرے پیٹ میں وہ اپنے ساتھیوں اور بچوں کے لیے کھانا ذخیرہ کر کے لے جاتی ہے۔
- کبھی گہری نیند نہ سونا: مزدور چیونٹیاں انسانوں کی طرح 8 گھنٹے نہیں سوتیں بلکہ 24 گھنٹے میں دن بھر میں صرف 1 سے 2 منٹ کے 250 چھوٹے چھوٹے وقفے (Power Naps) لیتی ہیں۔