کیا آپ جانتے ہیں؟ ⏱️ مطالعہ کا وقت: 3 منٹ سائنسی فیکٹ

کیا آپ جانتے ہیں؟ — شہد وہ واحد خوراک ہے جو کبھی خراب یا ایکسپائر نہیں ہوتی

سائنسی نام: Low Moisture & High Acidity Preservation

اہرامِ مصر سے ملنے والا 3000 سال پرانا شہد جب ماہرین نے چکھا تو وہ آج بھی اتنا ہی میٹھا اور کھانے کے قابل تھا!

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ شہد میں نمی (پانی کی مقدار) صرف 17 فیصد ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بیکٹیریا اور فنگس اس میں سانس تک نہیں لے سکتے۔
  • ✦ شہد کی مکھیاں رس اکٹھا کرتے وقت اپنے پیٹ سے ایک خاص انزائم (Glucose Oxidase) ملاتی ہیں جو شہد میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ پیدا کرتا ہے جو ایک طاقتور قدرتی اینٹی سیپٹک ہے۔
  • ✦ اگر شہد کو کسی ایئر ٹائٹ برتن میں بند رکھا جائے تو یہ قیامت تک خراب نہیں ہو سکتا۔

ہماری روزمرہ استعمال کی ہر خوراک — چاہے دودھ ہو، گوشت ہو، سبزیاں یا ادویات — چند دنوں یا مہینوں بعد سڑ جاتی ہے یا اس پر ایکسپائری تاریخ لکھی ہوتی ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسی قدرتی خوراک بھی موجود ہے جس کی کوئی ایکسپائری تاریخ نہیں ہوتی اور وہ ہزاروں سال بعد بھی خراب نہیں ہوتی؟ وہ نعمت "خالص شہد" ہے۔

فرعون کے مقبرے کا 3000 سال پرانا شہد

جب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر کے مشہور فرعون توتن خامن کے مقبرے کی کھدائی کی تو مٹی کے قدیم جار برآمد ہوئے جن کے اندر شہد محفوظ تھا۔ جب سائنسدانوں نے لیبارٹری میں اس شہد کا معائنہ کیا تو حیرت انگیز طور پر 3000 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وہ بالکل محفوظ، جراثیم سے پاک اور کھانے کے قابل نکلا!

شہد کبھی خراب کیوں نہیں ہوتا؟

  • پانی کی عدم موجودگی: شہد میں قدرتی طور پر پانی کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ کوئی بھی جراثیم یا بیکٹیریا جب اس میں گرتا ہے تو شہد اس کا تمام پانی نچوڑ لیتا ہے (Osmosis) اور جراثیم فوری مر جاتا ہے۔
  • ہائیڈروجن پر آکسائیڈ: مکھیاں شہد بناتے وقت اس میں قدرتی انزائم ملاتی ہیں جس سے مسلسل ہلکی مقدار میں جراثیم کش گیس پیدا ہوتی رہتی ہے۔
  • تیزابی خاصیت: شہد کی پی ایچ (pH) سطح تقریباً 3 سے 4 ہوتی ہے، جو بیکٹیریا کی افزائش کے لیے قطعی ناموافق ہے۔
یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: