ہماری روزمرہ استعمال کی ہر خوراک — چاہے دودھ ہو، گوشت ہو، سبزیاں یا ادویات — چند دنوں یا مہینوں بعد سڑ جاتی ہے یا اس پر ایکسپائری تاریخ لکھی ہوتی ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسی قدرتی خوراک بھی موجود ہے جس کی کوئی ایکسپائری تاریخ نہیں ہوتی اور وہ ہزاروں سال بعد بھی خراب نہیں ہوتی؟ وہ نعمت "خالص شہد" ہے۔
فرعون کے مقبرے کا 3000 سال پرانا شہد
جب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر کے مشہور فرعون توتن خامن کے مقبرے کی کھدائی کی تو مٹی کے قدیم جار برآمد ہوئے جن کے اندر شہد محفوظ تھا۔ جب سائنسدانوں نے لیبارٹری میں اس شہد کا معائنہ کیا تو حیرت انگیز طور پر 3000 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وہ بالکل محفوظ، جراثیم سے پاک اور کھانے کے قابل نکلا!
شہد کبھی خراب کیوں نہیں ہوتا؟
- پانی کی عدم موجودگی: شہد میں قدرتی طور پر پانی کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ کوئی بھی جراثیم یا بیکٹیریا جب اس میں گرتا ہے تو شہد اس کا تمام پانی نچوڑ لیتا ہے (Osmosis) اور جراثیم فوری مر جاتا ہے۔
- ہائیڈروجن پر آکسائیڈ: مکھیاں شہد بناتے وقت اس میں قدرتی انزائم ملاتی ہیں جس سے مسلسل ہلکی مقدار میں جراثیم کش گیس پیدا ہوتی رہتی ہے۔
- تیزابی خاصیت: شہد کی پی ایچ (pH) سطح تقریباً 3 سے 4 ہوتی ہے، جو بیکٹیریا کی افزائش کے لیے قطعی ناموافق ہے۔