تعارف، تاریخ و دریافت
یہ نہایت ہی عمدہ نیلگون جواہر ہے اس کی چمک دمک اور آسمانی نیلگون رنگت دل کو بہت بھاتی ہے اہل ہنود و یہود کی یرانی کتابوں میں اس کا ذکر آتا ہے اس جواہر کے برابر کسی اور جواہر کے خواص سحری نہیں مانے جاتے یونانی لوگ اسے اپنے عظیم دیوتا اور دیویوں کی نظر کیا کرتے تھے۔
احادیث شریف، روایات و تاریخی اہمیت
نام اس پتھر کو سنسکرت میں سوری تن کہا جاتا ہے۔
ماہیت، اقسام اور درجات
نیلم کو عربی میں یا قوت اور ارزق کہتے ہیں۔
سحری، روحانی و نجومی اثرات
برقی قوت اس کے کیمیاوی مرکبات اور طاقت انعکاس و دیگر خواص یا قوت سے ملتے ہیں، نیلم اور یاقوت میں رنگ ہی کا فرق ہے نیلم کا رنگ آسمانی نیلگوں اور یا قوت کا رنگ سرخ ہوتا ہے نیلم کا رنگ مادہ کروم کی ترکیب کے باعث ہوتا ہے گرمی کی تاب میں سفید اور زردی مائل نیلم سفید ہو جاتے ہیں۔ لیکن مشرقی نیلم کا رنگ گیس کی روشنی کے آگے ویسا ہی رہتا ہے ہاں کم درجہ حرارت کا رنگ اینٹ کے رنگ کی طرح تاریک ہو جاتا ہے اس کا اصل مقام پیدائش آہن کے ساتھ واقع ہوتا ہے۔
طبی و جسمانی شفا بخشی کے خواص
جس نیلم میں آبی مادہ زیادہ ہو وہ سفیدی مائل نیلا اور شفاف ہوتا ہے۔
مزید مشاہدات و مجربات
اسے فارسی میں یا قوت کسر و کہا جاتا ہے۔
انگریزی میں اسے سفائر کا نام دیا گیا ہے۔
ہندی اور اردو میں اسے نیلم کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پہننے کا شرعی و اصولی طریقہ
ضروری ہدایت: انگوٹھی پہننے سے قبل پتھر کو عرقِ گلاب یا پاک پانی سے دھو لیں اور باوضو ہو کر درود شریف پڑھتے ہوئے دائیں ہاتھ میں پہنیں۔