رحمت کا در کھلا ہے دربار مصطفیٰ میں

رحمت کا در کھلا ہے دربار مصطفیٰ میں
بن مانگے مل رہا ہے دربار مصطفیٰ میں

میں نعت پڑھ رہا تھا سرکار سن رہے تھے
یہ راز اب کھلا ہے دربار مصطفیٰ میں

ان پر درود ہر دم ان پر سلام ہر دم
ہر اک پڑھ رہا ہے دربار مصطفیٰ میں

عصیاں کے خوف سے جو مایوس ہو گیا تھا
کملی میں آ چھپا ہے دربار مصطفیٰ میں

رحمت میں ڈھل گئی ہے صورت بدل گئی ہے
میری جو ہر خطا ہے دربار مصطفیٰ میں

جنت کے در یہ اس کا رضوان منتظر ہے
جو حق سے جا ملا ہے دربار مصطفیٰ میں

ادب کا ہے تقاضہ جنبش نہیں بدن میں
دل وجد کر رہا ہے دربار مصطفیٰ میں

مرنے کے بعد میرا پوچھے کوئی تو کہنا
وہ نعت پڑھ رہا ہے دربار مصطفیٰ میں

میں چپ ہوں اور اشکوں کا ایک ایک قطرہ
سب حال کہہ رہا ہے دربار مصطفیٰ میں

جنت سے اس لئے ہم واپس ادیب آئے
دیدار مصطفیٰ ہے دربار مصطفیٰ میں

ادیب رائے پوری

Previous بلائیں گے تجھ کو شاہ مد ینہ ملے گا تجھے رحمتوں کا خزینہ Next مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے