جلوہ گر حضور ہو گئے

جلوہ گر حضور ہو گئے
سب اندھیرے دور ہو گئے

ارضِ مصطفٰےکی خاک کے
ذرّے اشک نور ہوگئے

اِن کی یاد میں خوشی ملی
جب غموں سے چور ہو گئے

اِ ن کے راستے میں جو ملے
رنج بھی سُرور ہو گئے

آپ کے ہوئے نہ جو قریب
وہ خدا سے دُور ہو گئے

جن میں ان کا واسطہ رہا
کام وہ ضرور ہو گئے

صدقۂ ہے ظہوری نعت کا
معاف سب قصور ہو گئے

Previous جہاں روضۂ پاک خیرالوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے Next جشن آمد رسول اللہ ہی اللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے