یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کہ مجھ جیسا عاصی مدینے چلا ہے

کہاں میں کہاں سبز گنبد کی چھاؤں
جو سوچوں تو یہ بھی بڑا معجزہ ہے

مدینے کی گلیوں کا پر نور منظر
بڑا ہی انوکھا بڑا دلربا ہے

ہے طیبہ کی بستی بہشتوں سے اعلیٰ
کہ یہ حرمِ پاکِ حبیبِ خدا ہے

سبھی عالموں میں چنیدہ یہ ٹکڑا
خدا کی نگاہوں کا مرکز بنا ہے

مدینے کی دھرتی یہ گنبدِ خضریٰ
یہ رتبے میں عرشِ الہٰ سے بڑا ہے

میری جان نکلے تو طیبہ میں نکلے
خداوند تجھ سے یہی التجا ہے

میری خوش نصیبی کا عالم تو دیکھو
مجھے آستانِ محؐمد ملا ہے

Previous یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے Next یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے