یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی

یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی

جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی

مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی

پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی

جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی

Previous یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا Next یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے