میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں

اپنے آقا ﷺکو میں نذر کیا دوں

اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے

ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں

میرے آنسو بہت قیمتی ہیں

ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں

ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ

یہ گوہر یو ہی کیسے لٹا دوں

بے نگاہی پہ میری نا جائیں

دیداور میرے نزدیک آئیں

میں یہی سے مدینہ دیکھا دوں

دیکھنے کا قرینہ بتا دوں

Previous میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں Next میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے