دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں

دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
جگ کے داتا تیرے دیوانے رکھ لو اپنے قدموں میں

تیری ذات میں ایسی کشش ہے تیرا در نہ چھوٹے ہے
تو شمع ہے ہم پروانے رکھ لو اپنے قدموں میں

سب جگ گائے تیرے ترانے رکھ لو اپنے قدموں میں

سارا عالم تیرے در کی بھیک کے اوپر پلتا ہے
سب کا رب بھی تیری مانے رکھ لو اپنے قدموں میں

تیری اصل حقیقت شاہا لاکھوں پردوں میں مستور
تیری شان خدا ہی جانے رکھ لو اپنے قدموں میں

رب کی رضا چاہتا ہے عالم رب چاہتا ہے تیری رضا
سارے زمانے تیرے زمانے رکھ لو اپنے قدموں میں

رب نے بخشے سارے خزانے رکھ لو اپنے قدموں میں

Previous دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے Next ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے