حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے

hazur aisa koye intizam hojaye

حضور ﷺ ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کے لیئے حاضر غلام ہو جائے

میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سے پھر میری دنیا میں شام ہو جائے

نظر سے چوم لوں اک بارگنبد خضرا
بلا سے پھر میری دنیا میں شام ہو جائے

تجلیات سے بھر لوں میں اپنا کاسہء جاں
کبھی جو اُن کی گلی میں قیام ہو جائے

حضور ﷺ آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے

حضورﷺ آپ جوسن لیں تو بات بنتی ہے
حضو ر ﷺآپ جو کہ دیں تو کام ہو جائے

مزہ تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہ دیں
صبیحؔ مدحت خیر الانام ہو جائے

سید صبیح الدین صبیح رحمانی

Previous حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے Next حمدِ خدا میں کیا کروں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے