عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

کہ سب جنّتیں ہیں نثارِ مدینہ

مبارک رہے عَنْدَلِیبو تمہیں گُل

ہمِیں گُل سے بہتر ہیں خارِ مدینہ

مَلائِک لگاتے ہیں آنکھوں میں اپنی

شب و روز خاکِ مزارِ مدینہ

رہیں ان کے جلوے بسیں ان کے جلوے

مِرا دل بنے یادگارِ مدینہ

دو عالَم میں بٹتا ہے صدقہ یہاں کا

ہمیں اِک نہیں ریزہ خوارِ مدینہ

بنا آسماں منزلِ اِبنِ مریم

گئے لامَکاں تاجدارِ مدینہ

شَرَف جن سے حاصل ہوا انبیا کو

وہی ہیں حسنؔ اِفتخارِ مدینہ

از برادرِ اعلیٰ حضرت  مولانا حسن رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ

Previous اج سک متراں دی ودھیری اے​ کیوں دلڑی اداس گھنیری اے​ Next ایسے گئے کہ سب کو رلا کر چلے گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے