عکسِ روئے مصطفےﷺ سے ایسی زیبائی ملی

عکسِ روئے مصطفےﷺ سے ایسی زیبائی ملی
کِھل اُٹھا رنگِ چمن ، پُھولوں کو رعنائی ملی

سبز گنبد کے مناظر دیکھتا رہتا ہوں میں
عشق میں چشمِ تصور کو وہ گیرائی ملی

جس طرف اُٹھیں نگاہیں محفلِ کونین میں
رحمۃ للعٰلمین کی جلوہ فرمائی ملی

ارضِ طیبہ میں میسر آگئی دو گز زمیں
یوں ہمارے منتشر اجزا کو یکجائی ملی

اُن کے قدموں میں ہیں تاج و تخت ہفت اقلیم کے
آپﷺ کے ادنٰی غلاموں کو وہ دارائی ملی

بحرِ عشقِ مصطفے ﷺ کا ماجرا کیا ہو بیاں
لطف آیا ڈوبنے کا جتنی گہرائی ملی

چادرِ زہرا کا سایہ ہے مرے سر پر نصیر
فیضِ نسبت دیکھیے ، نسبت بھی زہرائی ملی

(سید نصیر الدین نصیر)

Previous علی دا ملنگ میں تے علی دا ملنگ Next اکھیاں وچ سوہنے ماہی دی تصویر وسائی پھرناں واں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے