ہم سب اسکول کے زمانے سے پڑھتے آئے ہیں کہ پانی صفر ڈگری سینٹی گریڈ پر جم کر برف بنتا ہے اور 100 ڈگری پر ابل کر بھاپ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک ایسا بھی درجہ حرارت اور دباؤ موجود ہے جہاں پانی بیک وقت ابل بھی رہا ہو، جم کر برف بھی بن رہا ہو اور مائع کی شکل میں بھی لہریں لے رہا ہو؟ فزکس کی دنیا میں اس حیران کن لمحے کو "پانی کا ٹرپل پوائنٹ" (Triple Point of Water) کہا جاتا ہے۔
تھرموڈائنامکس کا منفرد سنگم
یہ سائنسی جادو تب رونما ہوتا ہے جب درجہ حرارت کو ٹھیک 0.01 ڈگری سینٹی گریڈ (273.16 کیلون) اور فضائی دباؤ کو کم کر کے 611.65 پاسکل (یعنی سمندر کے عام فضائی دباؤ کا صرف 0.006 حصہ) پر فکس کیا جائے۔ اس خاص دباؤ اور حرارت پر مادے کی تینوں بنیادی حالتیں — ٹھوس (برف)، مائع (پانی)، اور گیس (بخارات) — ایک مکمل تھرموڈائنامک توازن میں آ جاتی ہیں۔
شیشے کے سلنڈر میں کیا دکھائی دیتا ہے؟
جب آپ لیبارٹری کے ویکیوم چیمبر میں اس حالت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو منظر دنگ کر دینے والا ہوتا ہے:
- پانی کے تیز ابلتے بلبلے: کم دباؤ کے باعث پانی جوش کھا رہا ہوتا ہے اور بلبلے پھوٹ رہے ہوتے ہیں۔
- برف کے کرسٹلز کی تشکیل: تیز بخارات بننے کی وجہ سے گرمی خارج ہوتی ہے اور اسی ابلتے ہوئے پانی کی سطح پر بیک وقت برف کے شفاف ٹکڑے تیرنے لگتے ہیں۔
- برابر رفتار: مالیکیولز جس رفتار سے برف پگھل کر پانی بنتے ہیں، اسی رفتار سے پانی ابل کر گیس بنتا ہے اور گیس واپس ٹھنڈی ہو کر برف بنتی ہے۔
"پانی کا ٹرپل پوائنٹ قدرت کا اتنا مستند اور اٹل قانون ہے کہ سائنسدانوں نے کیلون تھرمامیٹر کی بنیادی کیلیبریشن اسی کی بنیاد پر طے کی ہے۔"
خلا میں پانی کا انجام
یہ سائنسی اصول یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اگر آپ خلا کے کھلے ماحول میں (جہاں دباؤ صفر ہوتا ہے) ایک گلاس پانی انڈیلیں تو کیا ہو گا۔ وہاں پانی ایک لمحے میں ابلے گا اور اسی سیکنڈ میں ابلتی ہوئی بھاپ منجمد ہو کر برف کے کرسٹلز بن جائے گی، کیونکہ خلا میں مائع حالت برقرار رکھنے کے لیے ضروری فضائی دباؤ سرے سے غائب ہوتا ہے۔