کیا آپ جانتے ہیں؟ ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ قدرتی حسیاتی معجزات

کیا آپ جانتے ہیں؟ — کیا مچھلیوں کو پیاس لگتی ہے اور پرندے ہزاروں میل دور ہجرت کا راستہ کیسے یاد رکھتے ہیں؟

سائنسی نام: Biological Sensory Mysteries & Magnetoreception

پرندوں کی آنکھوں میں زمین کے مقناطیسی فیلڈ کو دیکھنے والے کوانٹم پروٹینز اور نمکین سمندر میں مچھلیوں کے خصوصی کلورائیڈ پمپس کا ہوش ربا سائنسی راز

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ سمندری (نمکین پانی کی) مچھلیوں کو مسلسل پانی پینا پڑتا ہے کیونکہ نمکین پانی ان کے جسم کی نمی نچوڑتا رہتا ہے، جبکہ میٹھے پانی کی مچھلیاں کبھی منہ سے پانی نہیں پیتیں بلکہ جلد سے جذب کرتی ہیں۔
  • ✦ ہجرت کرنے والے پرندوں کی آنکھوں میں ایک خاص پروٹین «کرپٹو کروم 4» (Cryptochrome 4) ہوتا ہے جو کوانٹم مکینکس کی مدد سے انہیں زمین کی مقناطیسی لہروں کو آنکھوں کے سامنے لائیو دیکھنے دیتا ہے!
  • ✦ تتلی «مونارک» (Monarch Butterfly) کینیڈا سے 4,000 کلومیٹر اڑ کر میکسیکو کے اسی ایک خاص درخت پر پہنچتی ہے جہاں اس کے پردادا تتلی بیٹھی تھی، حالانکہ وہ خود اس راستے پر پہلی بار سفر کر رہی ہوتی ہے!

ہم جب فطرت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اکثر وہ معصوم اور انوکھے سوالات جنم لیتے ہیں جن کے جوابات عام طور پر اسکول کی کتابوں میں نہیں ملتے۔ مثلاً کیا چوبیس گھنٹے پانی میں تیرنے والی مچھلی کو بھی کبھی پیاس لگتی ہے؟ اور وہ ننھے پرندے جو قطبِ شمالی سے سفر شروع کر کے بغیر کسی جی پی ایس یا کمپاس کے 10 ہزار کلومیٹر دور افریقہ یا آسٹریلیا کے ٹھیک اسی ایک درخت کی شاخ پر کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ ان بظاہر سادہ سوالات کے پیچھے قدرت نے حیاتیات اور کوانٹم فزکس کا شاندار تال میل سجا رکھا ہے۔

کیا مچھلی کو پیاس لگتی ہے؟ آسموسس کا طبعی قانون

اس کا سائنسی جواب اس بات پر منحصر ہے کہ مچھلی نمکین سمندر میں رہتی ہے یا میٹھے دریا میں:

  • سمندری مچھلیاں (شدید پیاسی): سمندر کا پانی نمکین ہوتا ہے جس کی کثافت مچھلی کے جسم کے اندرونی خون سے زیادہ ہوتی ہے۔ فزکس کے قانون «اوسموسس» (Osmosis) کے تحت سمندر کا نمک مچھلی کے خلیات سے پانی باہر کھینچتا رہتا ہے۔ چنانچہ سمندری مچھلی پیاس اور پانی کی کمی (Dehydration) سے بچنے کے لیے دن رات مسلسل منہ سے نمکین پانی پیتی ہے اور اس کے گلپھڑوں میں خاص کلورائیڈ پمپس ہوتے ہیں جو اضافی نمک کو فوری باہر نکال پھینکتے ہیں۔
  • دریائی مچھلیاں (کبھی پانی نہیں پیتیں): میٹھے پانی کے دریا میں ماحول الٹ ہوتا ہے۔ باہر کا پانی کم نمکین ہوتا ہے، اس لیے پانی خود بخود مچھلی کی جلد اور گلپھڑوں کے راستے اس کے جسم میں گھستا رہتا ہے۔ اگر یہ منہ سے پانی پی لے تو اس کے خلیات پھٹ جائیں۔ چنانچہ یہ کبھی پانی نہیں پیتیں بلکہ مسلسل پیشاب کے ذریعے فالتو پانی خارج کرتی رہتی ہیں۔

پرندوں کی آنکھوں میں کوانٹم کمپاس (Quantum Magnetoreception)

پرندے میلوں دور ہجرت کا راستہ کیسے یاد رکھتے ہیں؟ سائنسدان پہلے سمجھتے تھے کہ وہ ستاروں یا پہاڑوں کو دیکھ کر اڑتے ہیں۔ لیکن جدید بائیو فزکس نے ایک انقلابی انکشاف کیا ہے۔ ہجرت کرنے والے پرندوں (جیسے یورپی رابن اور ابابیل) کی آنکھوں کے ریٹینا میں ایک نایاب پروٹین ہوتا ہے جسے «Cryptochrome 4» کہا جاتا ہے۔ جب نیلی روشنی اس پروٹین سے ٹکراتی ہے تو کوانٹم اینٹینگلمنٹ کے تحت اس کے الیکٹرانز زمین کے مقناطیسی میدان کے مطابق گھومتے ہیں۔ پرندے کو اپنی عام بصارت کے اوپر زمین کی مقناطیسی لکیریں ایک روشن یا تاریک شیڈ کی طرح دکھائی دیتی ہیں؛ وہ سیدھا اسی مقناطیسی شاہراہ پر پرواز کرتے ہوئے بغیر کسی نقشے کے منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔

«آرکٹک ٹرن (Arctic Tern) نامی پرندہ ہر سال قطب شمالی سے انٹارکٹیکا اور واپس 70,000 کلومیٹر کا چکر لگاتا ہے، یعنی اپنی زندگی میں چاند پر تین بار جانے کے برابر سفر کرتا ہے۔»

جینیاتی یادداشت: تتلیوں کی پراسرار ہجرت

سب سے سنسنی خیز معمہ مونارک تتلی (Monarch Butterfly) کا ہے۔ یہ نازک سی تتلی کینیڈا سے اڑتی ہے اور 4000 کلومیٹر کا پہاڑی سفر طے کر کے میکسیکو کے جنگل میں پہنچتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس طویل سفر کو پورا کرنے میں تتلیوں کی چار نسلیں لگ جاتی ہیں۔ یعنی جو تتلی کینیڈا سے چلی تھی، اس کی پڑپوتی میکسیکو پہنچتی ہے۔ اس چوتھی نسل نے وہ راستہ کبھی دیکھا نہیں ہوتا، لیکن اس کے جینز میں راستہ اس قدر درست فیڈ ہوتا ہے کہ وہ اسی مخصوص جنگل کے اسی مخصوص درخت کے پتے پر جا کر بیٹھتی ہے جہاں چار نسلیں پہلے اس کے اجداد بیٹھے تھے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: