یزید بن سکن رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

یزید بن سکن رضی اللہ عنہ کا پورا نام یزید بن سکن بن رفاعہ بن خنساء بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تھا۔ یہ قبیلہ انصارِ مدینہ کے معزز اور بہادر قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ‘انصاری’ کے لقب سے پکارا جاتا ہے جو آپ کے مدینہ سے تعلق اور اسلام کی نصرت کرنے والے گروہ میں شامل ہونے کی دلیل ہے۔ آپ کی کنیت ابو خالد بیان کی جاتی ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

یزید بن سکن رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں آنکھ کھولی اور بعثت نبوی کے بعد جلد ہی ایمان قبول کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت تیزی سے پھیلی اور آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل یا اس کے فوراً بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، لیکن آپ کا غزوہ احد جیسے اہم معرکوں میں شامل ہونا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ نے اسلام کی خاطر اپنی جان و مال کو وقف کر رکھا تھا۔ آپ نے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو اپنایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر اپنے ایمان کو مضبوط کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

یزید بن سکن رضی اللہ عنہ کی سب سے نمایاں اور عظیم الشان خدمت غزوہ احد کے موقع پر سامنے آئی۔ یہ غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا اور اس میں مسلمانوں کو شدید آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ جب مشرکین کی فوج نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لے لیا اور آپ کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا، تو اس نازک وقت میں چند جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔

ان جانثاروں میں یزید بن سکن رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا: "کوئی ہے جو ان (دشمنوں) کو ہم سے ہٹا دے، اور اس کے لیے جنت ہے؟” تو یزید بن سکن رضی اللہ عنہ نے فوراً لبیک کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کمال دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرکین پر حملہ کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ آپ نے اس موقع پر بے مثال جانبازی کا مظاہرہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے داد شجاعت دی۔ آپ کی یہ قربانی انصار کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت اور فدویت کی عکاس ہے۔

میراث اور وصال

یزید بن سکن رضی اللہ عنہ نے غزوہ احد کے میدان میں ہی جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ 3 ہجری (625 عیسوی) میں اس عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور یہ شہادت اسلام کی تاریخ میں آپ کے نام کو ہمیشہ کے لیے روشن کر گئی۔ آپ کی میراث انصار کی وفاداری، جرات اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت کی ایک زندہ مثال ہے۔ آپ کا یہ عمل آج بھی مسلمانوں کے لیے جذبہ ایثار و قربانی کا باعث ہے۔ آپ کے بعد آپ کی نسل کے بارے میں مستند تاریخی کتب میں زیادہ تفصیل نہیں ملتی، کیونکہ آپ نے نسبتاً کم عمری میں ہی شہادت کا رتبہ پا لیا تھا۔ آپ ان خوش نصیب صحابہ کرام میں سے ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، *الإصابة في تمييز الصحابة*
  • ابن عبد البر، *الاستيعاب في معرفة الأصحاب*
  • ابن کثیر، *البداية والنهاية* (غزوہ احد کے باب میں)
  • طبری، *تاریخ الرسل والملوک*
  • ابن ہشام، *السیرۃ النبویۃ*
  • امام احمد بن حنبل، *المسند*
  • الذہبی، *سیر أعلام النبلاء*